صحیح مسلم (جلد دوم) — Page 68
68 كتاب الحيض ނ الْيَهُودَ كَانُوا إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ فِيهِمْ لَمْ رہتے تو نبی ﷺ کے صحابہ نے نبی علی يُوَاكِلُوهَا وَلَمْ يُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ پوچھا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: فَسَأَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَيَسْتَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى وَسَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ۔۔آخر تک۔اللَّهُ تَعَالَى وَيَسْأَلُونَكَ عَن الْمَحيض قُلْ ترجمہ: اور وہ تجھ سے حیض کی حالت کے بارہ میں هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ في المحيض إلى سوال کرتے ہیں۔تو کہہ دے کہ یہ ایک تکلیف ( کی آخرِ الْآيَةِ فَقَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حالت) ہے۔پس حیض کے دوران عورتوں سے الگ وَسَلَّمَ اصْنَعُوا كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا النِّكَاحَ فَبَلَغَ رہو۔(سورۃ البقرہ 223 ) اس پر رسول اللہ ﷺ ذَلِكَ الْيَهُودَ فَقَالُوا مَا يُرِيدُ هَذَا الرَّجُلُ أَنْ نے فرمایا کہ ازدواجی تعلقات کے سوا سب کچھ کر يَدَعَ مِنْ أَمْرِنَا شَيْئًا إِلَّا خَالَفَنَا فِيهِ فَجَاءَ سکتے ہو۔جب یہ بات یہود تک پہنچی تو انہوں نے کہا أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ فَقَالَا يَا شخص ہماری کسی بات کو نہیں چھوڑ تا مگر اس میں ہماری رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْيَهُودَ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا فَلَا مخالفت کرتا ہے۔پھر حضرت اُسید بن حضیر اور نُجَامِعُهُنَّ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُول الله صَلَّى اللهُ حضرت عباد بن بشر آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنْ قَدْ وَجَدَ عَلَيْهِمَا یہود اس اس طرح کہتے ہیں اس لئے ہم ( بھی ) ان فَخَرَجًا فَاسْتَقْبَلَهُمَا هَدِيَّةٌ مِنْ لَبَن إِلَى (عورتوں) کے ساتھ اکٹھے نہ رہا کریں۔اس پر النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ فِي رسول اللہ علی کا چہرہ متغیر ہو گیا اور ہم نے خیال کیا آثَارِهِمَا فَسَقَاهُمَا فَعَرَفَا أَنْ لَمْ يَجِدْ کہ آپ ان دونوں سے خفا ہیں۔وہ باہر نکلے تو اُن دونوں کے سامنے دودھ کا تحفہ جونبی ﷺ کی خدمت میں بھیجا جا رہا تھا آیا۔آپ نے ان دونوں کے پیچھے وہ ( دودھ ) بھیجا اور ان دونوں کو پلایا تو وہ جان گئے کہ آپ ان سے ناراض نہیں ہیں۔عَلَيْهِمَا [694] صلى الله۔