صحیح مسلم (جلد دوم)

Page 32 of 303

صحیح مسلم (جلد دوم) — Page 32

هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُزُوا الشَّوَارِبَ وَأَرْحُوا اللَّحَى خَالِفُوا الْمَجُوسَ [603] 32 كتاب الطهاره 376 (56) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو :376: حضرت عائشہ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْب قَالُوا رسول الله ﷺ نے فرمایا کہ دس باتیں فطرتی ہیں حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْن أَبي زَائِدَةَ عَنْ مونچھیں ترشوانا، اور داڑھی بڑھانا، مسواک کرنا ، ناک شَيْبَةَ عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ عَنْ میں پانی ڈالنا ناخن کاٹنا، جوڑ دھونا * بغل صاف کرنا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ اور استرہ لینا اور پانی کا کم ( یعنی محتاط ) استعمال کرنا۔رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشر مصعب کہتے ہیں کہ دسویں بات میں بھول گیا ہوں مِنَ الْفِطْرَةِ قَصُّ الشَّارِبِ وَإِعْفَاءُ اللحية شاید وہ کلی کرنا ہے۔قتیبہ نے مزید کہا کہ وکیع کہتے بن و وَالسَّوَاكُ وَاسْتَنْشَاقُ الْمَاءِ وَقَصُ الْأَطْفَار تھے کہ انتقاص الماء سے مراد استنجاء کرنا ہے۔وَغَسْلُ الْبَرَاحِم وَنَتْفُ الْإِبط وَحَلْقُ الْعَانَة مصعب بن شیبہ نے اسی اسناد سے اس جیسی روایت وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ قَالَ زَكَرِيَّاءُ قَالَ مُصْعَبٌ کی ہے سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا کہ ان کے وَنَسِيتُ الْعَاشِرَةَ إِلَّا أَنْ تَكُونَ الْمَضْمَضَةَ والد نے کہا کہ میں دسویں بات بھول گیا ہوں۔زَادَ قُتَيْبَةُ قَالَ وَكِيعٌ الْتِقَاصُ الْمَاءِ يَعْنِي الاسْتِنْجَاءَ وَ حَدَّثَنَاهِ أَبُو كُرَيْب أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبي زَائِدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مُصْعَبِ بْن شَيْبَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ مَثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ أَبُوهُ ونَسيتُ الْعَاشِرَةَ [605,604] البراجم: مفاصل الاصابع او العظام الصغار في اليد والرجل (المنجد ) انگلیوں کے جوڑ یا ہاتھ پاؤں کی چھوٹی ہڈیاں۔