صحیح مسلم (جلد دوم) — Page 261
حیح مسلم جلد دوم 261 كتاب الصلاة يُصَلِّي صَلَاتَهُ مِنْ اللَّيْلِ كُلِّهَا وَأَنَا تھی، پھر آپ جب وتر ( پڑھنے ) کا ارادہ فرماتے تو مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِر مجھے جگا دیتے اور میں بھی وتر پڑھتی۔أَيْقَظَنِي فَأَوْتَرْتُ [1141] 785{269 و حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ :785 عروہ بن زبیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَر حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حضرت عائشہ نے کہا کہ نماز کو کیا چیز توڑتی ہے؟ وہ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزَّبَيْرِ کہتے ہیں کہ ہم نے کہا کہ عورت اور گدھا۔اس پر قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ قَالَ آپ نے فرمایا کہ عورت تو کوئی بُرا جانور ہوئی! یقینا فَقُلْنَا الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ فَقَالَتْ إِنَّ الْمَرْأَةَ میں نے اپنے تئیں دیکھا ہے کہ میں رسول اللہ ہے لَدَابَّةُ سَوْءٍ لَقَدْ رَأَيْتُنِي بَيْنَ يَدَيْ رَسُول الله کے سامنے جنازے کے رکھنے کی طرح ( لیٹی ہوئی ) قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَرِضَةً كَاعْتِرَاضِ ہوتی اور آپ نماز پڑھ رہے ہوتے۔الْجَنَازَةِ وَهُوَ يُصَلِّي [1142] 786 {270} حَدَّثَنَا عَمْرُو الناقدُ وَأَبُو :786 مسروق حضرت عائشہؓ سے روایت کرتے ہیں سَعِيدِ الْأَشجُ قَالَا حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ کہ آپ (حضرت عائشہ ) کے پاس ان چیزوں کا ح و حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ذکر ہوا جونماز توڑتی ہیں کتا ، گدھا اور عورت۔اس پر وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ تم نے ہمیں گدھوں اور حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ ح کتوں سے مشابہ بنا دیا ہے۔خدا کی قسم! میں نے قَالَ الْأَعْمَسُ وَحَدَّثَنِي مُسْلِمٌ عَنْ مَسْرُوقٍ رسول الله علیہ کو نماز پڑھتے دیکھا ہے اور میں تخت عَنْ عَائِشَةَ وَذُكِرَ عِنْدَهَا مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ پر آپ کے اور قبلہ کے درمیان لیٹی ہوتی جب مجھے الْكَلْبُ وَالْحِمارُ وَالْمَرْأَةُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ ضرورت ہوتی تو مجھے پسند نہ ہوتا کہ بیٹھ کر رسول اللہ قَدْ شَبَّهتُمُونَا بِالْحَمير والكلاب وَالله لَقَدْ ﷺ کو تکلیف دوں۔چنانچہ میں ( تخت کے ) پاؤں رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی طرف سے سرک کر چلی جاتی۔يُصَلِّي وَإِنِّي عَلَى السَّرِيرِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقَبْلَةِ مُضْطَجَعَةً فَتَبْدُو لى الْحَاجَةُ فَأَكْرَهُ أَنْ