صحیح مسلم (جلد دوم)

Page 256 of 303

صحیح مسلم (جلد دوم) — Page 256

حیح مسلم جلد دوم أبي۔سعيد فَعَادَ 256 كتاب الصلاة فَدَفَعَ في نَحْرِه أَشَدَّ من سعید کے سامنے سے۔تو وہ پھر دوبارہ آیا تو الدَّفْعَة الْأُولَى فَمَثَلَ قَائِمًا فَنَالَ مِنْ أَبِي انہوں ( حضرت ابوسعید ) نے اسے سینہ پر ہاتھ رکھ سَعِيد ثُمَّ زَاحَمَ النَّاسَ فَخَرَجَ فَدَخَلَ عَلَى کر) پہلے سے زیادہ زور سے پیچھے ہٹایا تو اس پر وہ مَرْوَانَ فَشَكَا إِلَيْهِ مَا لَقِيَ قَالَ وَدَخَلَ أَبُو کھڑا ہو گیا اور حضرت ابو سعید کو بُرا بھلا کہنے لگا اور سَعِيدٍ عَلَى أَرْوَانَ فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ مَا لَكَ لوگوں سے بھی مزاحمت کرنے لگا اور وہاں سے نکلا وَلَابْنِ أَخِيكَ جَاءَ يَشْكُوكَ فَقَالَ أَبُو سَعِيدِ اور مروان کے پاس جا کر جو اسے پیش آیا شکایت کی۔سَمِعْتُ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو سعید مروان کے پاس گئے تو يَقُولُ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى شَيْءٍ يَسْتُرُهُ مروان نے ان سے کہا تمہارے اور تمہارے بھیجا کا مِنَ النَّاسِ فَأَرَادَ أَحَدٌ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ کیا معاملہ ہے وہ آپ کی شکایت لے کر آیا فَلْيَدْفَعْ فِي نَحْرِهِ فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ ہے۔حضرت ابو سعید نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سُنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی لوگوں سے کسی چیز کو سُترہ بنا کر نماز پڑھے اور کوئی اس کے سامنے سے گذرنا چاہے تو اسے چاہیے کہ وہ اسے اس کے سینہ پر ہاتھ رکھ کر اسے روکے اور اگر وہ انکار کرے تو وہ اس سے مقابلہ کرے کیونکہ وہ شیطان ہے۔شَيْطَانٌ [1129] 260776) حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ :776 حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی إِسْمَعِيلَ ابْنِ أَبِي فُدَيْكَ عَنِ الصَّحاكِ بْنِ نماز پڑھے تو اپنے سامنے سے کسی کو گزرنے نہ دے عُثْمَانَ عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ اور اگر وہ انکار کرے تو اس کا مقابلہ کرے کیونکہ اس عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے ساتھ ( بِئْسَ الْقَرِينَ ) برا ساتھی ہے۔قَالَ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلَا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّ مَعَهُ الْقَرِينَ