صحیح مسلم (جلد دوم) — Page 251
مسلم جلد دوم 251 كتاب الصلاة النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْكُرُ جگہ يَغْرِذُ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ابن ابی شیبہ کی وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَعْرِزُ الْعَنَزَةَ وَيُصَلِّي إِلَيْهَا روایت میں یہ اضافہ ہے کہ عبید اللہ نے کہا ” وہ زَادَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ عُبَيْدُ الله العَتُرَةُ ہی) الْحَرُبَةُ یعنی برچھی ہے۔الْحَرْبَةُ [1116] وهي 767 {247} حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا 767 : حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعِ اپنی اونٹنی اپنے سامنے (سترہ کے طور پر ) کر لیتے اور عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْہ اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ لیتے۔وَسَلَّمَ كَانَ يَعْرِضُ رَاحِلَتَهُ وَهُوَ يُصَلِّي إِلَيْهَا [1117] 768 {248} حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ :768 حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ نبی ﷺ اپنی وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدِ الْأَحْمَرُ عَنْ سواری کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ لیتے ، ابن نمیر کی عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيِّ روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اونٹ کی طرف رخ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي إِلَى کر کے نماز ادا فرمائی۔رَاحِلَتِهِ و قَالَ ابْنُ نُمَيْرِ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى إِلَى بَعِير [1118] 769 {249} حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ :769 : عون بن ابی جحیفہ اپنے والد سے روایت کرتے وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ وَكِيعِ قَالَ ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا مکہ میں حاضر ہوا۔آپ اصطح میں اپنے ایک سرخ عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيه قَالَ أَتَيْتُ رنگ کے خیمہ میں تھے جو چمڑے کا تھا۔وہ کہتے ہیں النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَهُوَ که حضرت بلال آپ کے وضوء کا پانی لے کر باہر بِالْأَبْطَحِ فِي قُبَّةٍ لَهُ حَمْرَاءَ مِنْ أَدَمٍ قَالَ نکلے تو کوئی لینے والا تھا کوئی چھڑ کنے والا تھا۔وہ کہتے فَخَرَجَ بِلَالٌ بِوَضُوئِهِ فَمِنْ نَائِلِ وَنَاضِحِ ہیں ھر نبی ﷺ باہر تشریف لائے۔آپ سرخ رنگ قَالَ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کا جوڑا پہنے ہوئے تھے گویا کہ میں آپ کی پنڈلیوں