صحیح مسلم (جلد دوم)

Page 248 of 303

صحیح مسلم (جلد دوم) — Page 248

حیح مسلم جلد دوم 248 كتاب الصلاة أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا ہوتا وہ آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لیتا۔وکیع کہتے جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمَّ عَن ہیں یعنی ان دونوں کی سفیدی مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ جَافَى حَتَّى يَرَى مَنْ خَلْفَهُ وَضَحَ إِبْطَيْهِ قَالَ وكِيعٌ يَعْنِي بَيَاضَهُمَا [1109] 760 {240} حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ :760 حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِد يَعْنِي الْأَحْمَرَ عَنْ رسول الله لا نمازکو تکبیر سے اور قراءت کو اَلْحَمْدُ حُسَيْنِ الْمُعَلِّمِ قَالَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ لِلَّهِ سے شروع فرماتے۔جب آپ رکوع فرماتے تو إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ سرکونہ تو اوپر اٹھار کھتے اور نہ ہی بالکل جھکا دیتے بلکہ يُونُسَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ الْمُعَلِّمُ عَنْ بُدَيْلِ بْنِ اس کے درمیان رکھتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے مَيْسَرَةَ عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تو سجدہ نہ کرتے یہاں تک کہ آپ سیدھے کھڑے ہو كَانَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جاتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو (دوسرا) سجدہ يَسْتَفْتحُ الصَّلَاةَ بالتَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةَ ب نہ کرتے یہاں تک کہ پوری طرح بیٹھ جاتے۔آپ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَكَانَ إِذَا رَكَعَ لَمْ ہر دور کعتوں کے بعد التحیات پڑھتے تھے اور آپ يُشخص رَأْسَهُ وَلَمْ يُصَوِّبُهُ وَلَكِنْ بَيْنَ ذَلِكَ اپنا بایاں پاؤں بچھاتے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھتے وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ لَمْ يَسْجُدْ اور عُقْبَةُ الشَّيْطَان سے منع فرماتے اور اس سے حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ بھی منع فرماتے کہ کوئی آدمی اپنے بازوؤں کو درندے السَّجْدَةِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ جَالِسًا کی طرح زمین پر بچھائے اور آپ نماز سلام کے وَكَانَ يَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ التَّحِيَّةَ وَكَانَ ساتھ ختم فرماتے ابو خالد سے روایت میں عقب يَفْرِسُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ الْيُمْنَى الشَّيْطَان * کے لفظ ہیں اور آپ ان سے منع فرماتے وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عُقْبَةِ الشَّيْطَانِ وَيَنْهَى أَنْ تھے۔عُقْبَةُ الشَّيْطَان سے مراد اس طرح بیٹھنا ہے کہ ٹرین زمین پر لگے ہوں اور پنڈلیاں کھڑی ہوں اور اپنے ہاتھ زمین پر رکھے۔