صحیح مسلم (جلد دوم) — Page 242
حیح مسلم جلد دوم 242 كتاب الصلاة حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ كَعْبٍ رات آپ کے وضو کا پانی اور آپ کی ضرورت کی ) الْأَسْلَمِيُّ قَالَ كُنتُ أَبيتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ چیز لے کر آیا تو آپ نے مجھ سے فرمایا ” مانگ لو صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ بوَضُوئِه تو میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں جنت میں وَحَاجَتِهِ فَقَالَ لِي سَلْ فَقُلْتُ أَسْأَلُكَ آپ کی رفاقت مانگتا ہوں۔آپ نے فرمایا یا کچھ مُرَافَقَتَكَ فِي الْجَنَّة قَالَ أَوْ غَيْرَ ذَلكَ قُلْتُ اور؟ میں نے کہا کہ بس یہی۔آپ نے فرمایا تو پھر هُوَ ذَاكَ قَالَ فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ اپنے لئے کثرت سجود سے میری مدد کرو۔السجود [1094] [44]44: بَاب أَعْضاء السُّجُودِ وَالنَّهْي عَنْ كَفَ الشَّعْرِ وَالتَّوْبِ وَعَقْصِ الرَّأْسِ فِي الصَّلَاةِ سجدہ کے اعضاء ( کا بیان ) اور نماز میں بالوں اور کپڑوں کو سنبھالنے اور جوڑا باندھ کر رکھنے کی ممانعت 747 {227) وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَأَبُو :747: حضرت ابن عباس سے روایت ہے وہ بیان الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ أَبُو کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ سات الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدِ عَنْ عَمْرِو بْنِ (اعضاء) پر سجدہ کریں اور آپ کو منع کیا گیا کہ آپ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُمِرَ اپنے بال اور کپڑے سنبھالتے رہیں۔ابو ربیع کہتے النّبيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَی ہیں کہ سات ہڈیوں پر (سجدہ کا حکم دیا گیا) وہ یہ ہیں سَبْعَةِ وَنُهِيَ أَنْ يَكُفَّ شَعْرَهُ وَثِيَابَهُ هَذَا دونوں ہتھیلیاں، دونوں گھٹنے ، دونوں پاؤں اور حَدِيثُ يَحْيَى َو قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ عَلَى سَبْعَةِ ،پیشانی، نیز اس سے منع کیا گیا کہ اپنے بالوں اور أَعْظُم وَنُهِيَ أَنْ يَكُفَّ شَعْرَهُ وَثِيَابَهُ الْكَفِّيْنِ کپڑوں کو سنبھالتے رہیں۔وَالرُّكْبَتَيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ وَالْجَبْهَة [1095] 748 {228} حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :748 : حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ سات ہڈیوں عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ پر سجدہ کروں اور کپڑوں اور بالوں کو سمیٹتا نہ رہوں۔