صحیح مسلم (جلد دوم) — Page 208
حیح مسلم جلد دوم 208 كتاب الصلاة بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا هُوَ کو دھوکہ سے شہید کر دیا گیا ہے۔راوی کہتے ہیں کہ وہ جَاء مِنْ قِبَلَ حِرَاءِ قَالَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ الله بدترین رات تھی جو کسی قوم نے گزاری ہوگی۔پھر فَقَدْنَاكَ فَطَلَبْنَاكَ فَلَمْ نَجِدْكَ فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ جب ہم نے صبح کی تو دیکھا کہ آپ حرا( پہاڑ) کی بَاتَ بِهَا قَوْمٌ فَقَالَ أَتَانِي دَاعِي الْحِنُ طرف سے تشریف لا رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ہم فَذَهَبْتُ مَعَهُ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ قَالَ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ہم نے آپ کو فَانْطَلَقَ بِنَا فَأَرَانَا آثَارَهُمْ وَآثَارَ نيرانهمْ یہاں موجود نہ پا کر آپ کو تلاش کیا تو آپ کو نہ پا کر وَسَأَلُوهُ الزَّادَ فَقَالَ لَكُمْ كُلُّ عَظْم ذُكِرَ بدترین رات گذاری جو کسی قوم نے گزاری ہوگی۔اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ يَقَعُ فِي أَيْدِيكُمْ أَوْفَرَ مَا آپ نے فرمایا کہ جنوں کا قاصد میرے پاس آیا۔يَكُونُ لَحْمًا وَكُلُّ بَعْرَةِ عَلَفٌ لِدَوَابِّكُمْ میں اس کے ساتھ گیا میں نے انہیں قرآن پڑھ کر سنایا فَقَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلا ، راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ ہمارے ساتھ چلے اور تَسْتَنْجُوا بِهِمَا فَإِنَّهُمَا طَعَامُ إِخْوَانِكُمْ و آپ نے ہمیں ان کے نشان اور ان کی آگوں کے حَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرِ السَّعْدِي حَدَّثَنَا نشان دکھائے اور انہوں نے آپ سے زادِ راہ طلب إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ دَاوُدَ بِهَذَا کیا، آپ نے فرمایا کہ تمہارے لئے ہر ہڈی جس پر الْإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ وَآثَارَ نِيرَائِهِمْ قَالَ اللہ کا نام لیا گیا ہو اور وہ تمہارے ہاتھ میں پڑے اور الشَّعْبِيُّ وَسَأَلُوهُ الزَّادَ وَكَانُوا مِنْ جِنْ اس پر خوب گوشت ہو وہ تمہارے لئے ہے۔اور ہر الْجَزِيرَة إِلَى آخِرِ الْحَدِيث مِنْ قَوْلِ مینگنی بھی تمہارے جانوروں کا چارہ ہے۔رسول اللہ الشعبي مُفَصَّلًا مِنْ حَدِيث عَبْدِ الله الله بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ دَاوُدَ عَنِ الشَّعْبِي عَنْ نے فرمایا پس ان دونوں سے استنجاء مت کرو و حَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَ کیونکہ یہ دونوں تمہارے بھائیوں کی خوراک ہیں۔شعمی کہتے ہیں کہ انہوں نے آپ سے زاد مانگا اور وہ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ الله عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ جزیره کے جن تھے۔روایت کے آخر تک بیان کیا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْلِهِ وَآثَارَ نِيرَانِهِمْ وَلَمْ ہے علقمہ نے حضرت عبداللہ کی روایت کو جو نبی کے قول آثار نِیرَانِهِمُ تک ہے۔روایت کی يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ [1009,1008,1007] صلى الله ہے لیکن اس کے بعد کا ذکر نہیں کیا۔