صحیح مسلم (جلد دوم)

Page 205 of 303

صحیح مسلم (جلد دوم) — Page 205

حیح مسلم جلد دوم 205 كتاب الصلاة 672 {148} حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدِ حَدَّثَنَا :672: حضرت ابن عباس اللہ کے قول لا تُحَرِّى أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ به (القيامة : 17) کے بارہ صلى الله سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ فِي قَوْله لَا میں بیان کرتے ہیں کہ نبی عہ قرآن مجید کی وحی تُحرِّك به لسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ نازل ہونے سے (احساس ذمہ داری کی وجہ سے ) صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَالِجُ مِنَ التَّنْزِيلِ بوجھ محسوس کرتے تھے اور آپ اپنے ہونٹ ہلایا شدَّةً كَانَ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ فَقَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ کرتے تھے۔حضرت ابن عباس نے مجھے (سعید بن أَنَا أُحَرِّكُهُمَا كَمَا كَانَ رَسُولُ الله صَلَّى جبیر) سے کہا کہ میں ہونٹوں کو اسی طرح ہلاتا ہوں اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّكُهُمَا فَقَالَ سَعِيدٌ أَنَا جس طرح حضرت رسول اللہ ﷺ ہونٹوں کو) أُحَرِّكُهُمَا كَمَا كَانَ ابْنُ عَبَّاس يُحَرِّكُهُمَا ہلاتے تھے۔سعید کہتے ہیں کہ میں ان ( ہونٹوں) کو فَحَرَّكَ شَفَتَيْهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى لَا تُحَرِّك به اسی طرح ہلا تا ہوں جس طرح حضرت ابنِ عباس لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ ( ہونٹوں کو ) ہلاتے تھے ، پھر انہوں نے اپنے ہونٹ قَالَ جَمْعَهُ فِي صَدْرِكَ ثُمَّ تَقْرَؤُهُ فَإِذَا قَرَأْنَاهُ ہلائے۔اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لَا تُحَرِى فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ قَالَ فَاسْتَمِعْ وَأَلصَّتَ ثُمَّ إِنَّ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمُعَهُ عَلَيْنَا أَنْ تَقْرَأَهُ قَالَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى وَقُرَانه ( تو اس کی قراءت کے وقت اپنی زبان کو اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ اسْتَمَعَ فَإِذَا اس لئے تیز حرکت نہ دے کہ تو اسے جلد جلد یاد کرے انْطَلَقَ جِبْرِيلُ قَرَأَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ یقیناً اس کا جمع کرنا اور اس کی تلاوت کرنا ہماری ذمہ داری ہے ) فرمایا تمہارے سینہ میں اس کا جمع کرنا۔اور پھر آپ اس کو پڑھیں گے ﴿فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعُ قرانه (پس جب ہم اسے پڑھ چکیں تو تو اس کی قراءت کی پیروی کر ) فرمایا غور سے سنیں اور خاموش رہیں پھر ہماری ذمہ داری ہے کہ آپ اسے پڑھیں۔وہ بیان کرتے ہیں کہ پھر جب رسول اللہ علہ کے پاس جبرائیل آتے تو آپ توجہ سے سنتے پھر جب وَسَلَّمَ كَمَا أَقْرَأَهُ [1005]