صحیح مسلم (جلد دوم)

Page 184 of 303

صحیح مسلم (جلد دوم) — Page 184

حیح مسلم جلد دوم۔184 كتاب الصلاة 632 {105} حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعِ :632 حضرت مغیرہ بن شعبہ نے بیان کیا کہ وہ وَحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ رسول الله علیہ کے ساتھ غزوہ تبوک میں شریک الرَّزَّاقِ قَالَ ابْنُ رَافِعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ہوئے۔حضرت مغیرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ قضائے حاجت کے لیے فجر کی نماز سے پہلے تشریف حَدِيثِ عَبَّادِ بْنِ زِيَادٍ أَنْ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ لے گئے میں نے آپ کے ساتھ پانی کی چھاگل بن شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ اٹھالی۔جب رسول اللہ علہ میری طرف واپس أَلَهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ آئے تو میں چھا گل سے آپ کے ہاتھوں پر پانی وَسَلَّمَ تَبُوكَ قَالَ الْمُغِيرَةُ فَتَبَرَّزَ رَسُولُ اللهِ ڈالنے لگا اور آپ نے اپنے دونوں ہاتھ تین مرتبہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبلَ الْغَائِطِ فَحَمَلْتُ ھوئے ، پھر آپ نے اپنا چہرہ مبارک دھویا ، پھر آپ مَعَهُ إِدَاوَةً قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ فَلَمَّا رَجَعَ اپنے بازوؤں کو اپنے جتبہ سے باہر نکالنے لگے لیکن جبہ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے اپنے ہاتھ جبہ کے اندر أَخَذْتُ أُهَرِيقُ عَلَى يَدَيْهِ مِنَ الْإِدَاوَةِ وَغَسَلَ داخل کئے۔اور اپنے باز و جنبہ کے نیچے سے نکال يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتِ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثُمَّ ذَهَبَ کر کہنیوں تک دھوئے ، پھر آپ نے اپنے موزوں پر يُخْرِجُ جُبَّتَهُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ فَصَاقَ كُمَّا فَصَاقَ كُمَّا جُبَّتِهِ ( مسح کر کے ) ان کو صاف کیا۔پھر آگے چل پڑے۔فَأَدْخَلَ يَدَيْهِ فِي الْجَبَّةِ حَتَّى أَخْرَجَ ذِرَاعَيْهِ مغيرة کہتے ہیں میں بھی آپ کے ساتھ آگے مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ إِلَى چلا یہانتک کہ ہم نے لوگوں کو پایا کہ وہ حضرت الْمِرْفَقَيْنِ ثُمَّ تَوَضَّأَ عَلَى حُفْيْهِ ثُمَّ أَقْبَلَ قَالَ عبد الرحمن بن عوف کو آگے کر چکے تھے وہ ان کو نماز الْمُغِيرَةُ فَأَقْبَلْتُ مَعَهُ حَتَّى نَجِدُ النَّاسَ قَدْ پڑھا رہے تھے۔تو رسول اللہ ﷺ نے دو میں سے قَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفِ فَصَلَّى لَهُمْ ایک رکعت پائی اور آپ نے دوسری رکعت لوگوں فَأَدْرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے ساتھ پڑھی۔جب حضرت عبدالرحمن بن عوف إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ فَصَلَّى مَعَ النَّاسِ الرَّكْعَةَ نے سلام پھیرا اور رسول اللہ ﷺ اپنی نماز پوری الْآخِرَةَ فَلَمَّا سَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفِ کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو اس بات نے قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتِمُّ مسلمانوں میں گھبراہٹ پیدا کر دی اور بکثرت تسبیح