صحیح مسلم (جلد دوم) — Page 183
183 كتاب الصلاة وَإِنَّمَا التَّصْفِيحُ للنِّسَاء فَصَلَّى ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ مَا نے نماز پڑھائی۔پھر جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبَتَ إِذْ أَمَرْتُكَ قَالَ أَبُو بَكْرِ مَا اے ابو بکر ! جب میں نے آپ کو ٹھہرے رہنے کا کہا كَانَ لابْن أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ تھا تو کس بات نے آپ کو اس سے روکا؟ حضرت رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ابو بکر نے عرض کیا ابو قحافہ کے بیٹے کی مجال نہیں ہے کہ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لِي وه رسول اللہ ﷺ کے آگے ہو کر نماز پڑھائے پھر رَأَيْتُكُمْ أَكْثَرْتُمُ التَّصْفِيقَ مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي رسول الله اللہ نے فرمایا کیا بات ہے میں نے دیکھا صَلَاتِهِ فَلْيُسَبِّحْ فَإِنَّهُ إِذَا سَبَّحَ الْفِتَ إِلَيْهِ کہ تم نے بہت تالیاں بجائیں۔جسے نماز میں کوئی غیر معمولی بات پیش آئے تو اسے چاہیے کہ وہ سبحان {103} حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہ کہے کیونکہ جب وہ سبحان اللہ کہے گا تو اس کی الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ ابْنَ أَبِي حَازِمٍ وَقَالَ قُتَيْبَةُ طرف توجہ کی جائے گی اور تالیاں تو عورتوں کے لئے حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ہیں۔ابوحازم نے حضرت سہل بن سعد سے مالک کی الْقَارِيُّ كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ روایت کی طرح روایت کی ہے۔ان دونوں کی سَعْد بمثل حَدِيث مَالك وَفِي حَدِيثِهِمَا روایت کے مطابق کہ حضرت ابو بکر نے ہاتھ اٹھائے فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَرَجَعَ اور اللہ کی حمد کی اور الٹے پاؤں پیچھے ہٹ گئے یہانتک الْقَهْقَرَى وَرَاءَهُ حَتَّى قَامَ فِي الصَّفْ کہ صف میں کھڑے ہو گئے۔حضرت سہل بن {104} حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ سعد الساعدی سے روایت ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اللہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ کے نبی و بنی عمرو بن عوف میں صلح کرانے گئے۔راویوں کی روایت کے مطابق۔لیکن اس میں مزید یہ الله أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدِ السَّاعِدِي قَالَ ذَهَبَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلِحُ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفَ بِمِثْل ہے کہ * رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور صفوں میں حَدِيثِهِمْ وَزَادَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ سے گزرے یہانتک کہ اگلی صف میں کھڑے ہو گئے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَقَ الصُّفُوفَ حَتَّى قَامَ عِنْدَ اس میں یہ بھی ہے کہ حضرت ابو بکر الٹے پاؤں الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ وَفِيهِ أَنْ أَبَا بَكْرٍ رَجَعَ الْقَهْقَرَى [951,950,949] لوٹے۔: معلوم ہوتا ہے کہ حضور کے جب پہنچے تو نماز کھڑی ہونے والی تھی۔حضور میر صفوں سے گزرتے ہوئے جب پہلی صف میں پہنچے تو حضرت ابو بکر نماز شروع کر چکے تھے۔