صحیح مسلم (جلد دوم)

Page 182 of 303

صحیح مسلم (جلد دوم) — Page 182

حیح مسلم جلد دوم 182 كتاب الصلاة 221221: بَاب تَقْدِيمِ الْجَمَاعَةِ مَنْ يُصَلِّي بِهِمْ إِذَا تَأَخَّرَ الْإِمَامُ وَلَمْ يَخَافُوا مَفْسَدَةً بِالتَّقْدِيمِ جب امام کے آنے میں تاخیر ہو جائے تو جماعت کا کسی شخص کو آگے کرنا جو انہیں نماز پڑھائے اور آگے کرنے میں انہیں کسی خرابی کا اندیشہ نہ ہو 631 {102} حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ :631: حضرت سہل بن سعد الساعدی سے روایت ہے قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ که رسول اللہ لہ بنی عمرو بن عوف کی طرف گئے کہ بن سَعْد السَّاعدي أَنَّ رَسُولَ الله صَلَّی ان کے درمیان صلح کرائیں۔اور نماز کا وقت ہو گیا تو اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ إلَى بَنِي عَمْرو بن مؤذن حضرت ابو بکر کے پاس آیا اور کہا کہ کیا آپ عَوْف لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ فَحَانَتِ الصَّلَاةُ فَجَاءَ لوگوں کو نماز پڑھائیں گے کہ میں اقامت کہوں؟ الْمُؤَذِّنُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ أَتُصَلِّي بِالنَّاسِ انہوں نے کہا کہ ہاں۔راوی کہتے ہیں پھر حضرت فَأَقِيمُ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَصَلَّى أَبُو بَكْرِ فَجَاءَ ابوبکر نماز پڑھانے لگے۔ابھی لوگ نماز میں ہی تھے رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ رسول الله علے فارغ ہو کر تشریف لائے اور لوگوں فِي الصَّلَاةِ فَتَحَلَّصَ حَتَّى وَقَفَ فِي الصَّف میں سے راستہ بناتے ہوئے صف میں کھڑے فَصَفَّقَ النَّاسُ وَكَانَ أَبُو بَكْرِ لَا يَلْتَفتُ في ہو گئے۔لوگوں نے تالی بجائی۔حضرت ابو بکر نماز الصَّلَاةِ فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ التَّصفيقَ الْتَفَتَ میں ( ادھر ادھر توجہ نہ کرتے تھے مگر جب لوگوں نے فَرَأَى رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زیادہ ہی تالیاں بجائیں تو انہوں نے توجہ کی اور فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْه رسول الله علیہ کو دیکھا۔تب رسول اللہ ﷺ نے وَسَلَّمَ أَنِ امْكُتْ مَكَانَكَ فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ آپ کو اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ پر ٹھہرے رہیں۔تو يَدَيْهِ فَحَمدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى مَا أَمَرَهُ به ابو بکر نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور اللہ بزرگ و رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ برتر کی اس پر حمد کی جو رسول اللہ ﷺ نے آپ کو ثُمَّ اسْتَأْخَرَ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى اسْتَوَى في ارشاد فرمایا تھا۔پھر حضرت ابو بکر پیچھے ہٹے اور صف الصَّفْ وَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ میں شامل ہو گئے اور نبی ﷺ آگے بڑھے اور آپ