صحیح مسلم (جلد دوم) — Page 181
181 كتاب الصلاة الصَّمَد قَالَ سَمِعْتُ أَبي يُحَدِّثُ قَالَ حَدَّثَنَا تشریف نہ لائے۔پھر (ایک دفعہ ) نماز کی اقامت عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمْ يَخْرُجُ إِلَيْنَا نَبِيُّ ہوئی اور حضرت ابو بکر آگے ہونے لگے تو اللہ کے نبی الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا فَأُقيمت ﷺ نے پردہ پکڑ کر اسے اٹھا دیا۔جب اللہ کے نبی الصَّلَاةُ فَذَهَبَ أَبُو بَكْر يَتَقَدَّمُ فَقَالَ نَبيُّ الله ﷺ کا چہرہ مبارک ہمارے سامنے ظاہر ہوا تو وہ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحِجَاب فَرَفَعَهُ ایک ایسا منظر تھا کہ ہم نے نبی ﷺ کے چہرہ سے فَلَمَّا وَضَحَ لَنَا وَجْهُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ جب وہ ہمارے سامنے ظاہر ہوا زیادہ خوبصورت وَسَلَّمَ مَا نَظَرْنَا مَنْظَرًا قَط كَانَ أَعْجَبَ إِلَيْنَا نظارہ کبھی نہیں دیکھا تھا۔پھر اللہ کے نبی منان نے مِنْ وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حينَ اپنے ہاتھ سے حضرت ابو بکر کو آگے بڑھنے کا اشارہ وَضَحَ لَنَا قَالَ فَأَوْمَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ کیا اور اللہ کے نبی ہو نے پردہ گرا دیا۔پھر ہمیں وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَتَقَدَّمَ وَأَرْحَى آپ کو دیکھنے کی توفیق نہ ملی یہانتک کہ آپ کی نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحِجَابَ وفات ہوگئی۔الْمَلِكِ فَلَمْ نَقْدِرْ عَلَيْهِ حَتَّى مَاتَ [947] 630 {101} حَدَّثَنَا أَبُو بَكْر بن أَبي شَيْبَةَ 630 حضرت ابو موسی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ عَبْدِ کہ جب رسول اللہ ﷺ بیمار ہوئے اور آپ کی بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي بیماری بڑھ گئی تو آپ نے فرمایا ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگو مُوسَى قَالَ مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ وں کو نماز پڑھائیں۔اس پر حضرت عائشہ نے عرض کیا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَدَّ مَرَضَهُ فَقَالَ مُرُوا أَبَا يا رسول الله ! ابوبکر ایک نرم دل آدمی ہیں۔جب آپ بَكْرِ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز نہیں پڑھاسکیں اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ گے۔آپ نے فرمایا ابوبکڑ سے ہی کہو کہ وہ لوگوں کو لَا يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَقَالَ مُرِي أَبَا نماز پڑھا ئیں۔تم یوسف والیاں ہو۔راوی کہتے ہیں بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبْ پھر رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں حضرت ابو بکڑ نے يُوسُفَ قَالَ فَصَلَّى بِهِمْ أَبُو بَكْرٍ حَيَاةَ ہی نمازیں پڑھائیں۔رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [948]