صحیح مسلم (جلد دوم)

Page 177 of 303

صحیح مسلم (جلد دوم) — Page 177

حیح مسلم جلد دوم 177 كتاب الصلاة 626 {95) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ :626 حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتی حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَكِيعٌ ح و حَدَّثَنَا ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کی بیماری نے ھدت يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو اختیار کر لی تھی تو حضرت بلال آپ کو نماز کی اطلاع مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ دینے آئے تو آپ نے فرمایا کہ ابو بکر سے کہو کہ وہ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔وہ کہتی ہیں کہ میں نے عرض الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ بِلَالُ يُؤذلهُ کیا یا رسول اللہ ! ابو بکر تو نہایت نرم دل انسان ہیں بِالصَّلَاةِ فَقَالَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ اور جب وہ آپ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو لوگوں قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَبَا بَكْر رَجُلٌ تک آواز پہنچا نہیں سکیں گے۔آپ عمر کو کیوں نہ ارشاد أَسِيفٌ وَإِنَّهُ مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ لَا يُسْمِعِ فرما دیں۔آپ نے فرمایا کہ ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو النَّاسَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ فَقَالَ مُرُوا أَبَا بَكْرِ نماز پڑھائیں ،حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میں نے فَلْيُصَلِّ بالنَّاسِ قَالَتْ فَقُلْتُ لحَفْصَةَ قُولي حفصہ سے کہا کہ تم (حضور) سے عرض کرو کہ ابو بکر لَهُ إِنَّ أَبَا بَكْرِ رَجُلٌ أَسِيفٌ وَإِنَّهُ مَتَى يَقُم نہایت نرم دل آدمی ہیں اور جب وہ آپ کی جگہ پر مَقَامَكَ لَا يُسْمِعِ النَّاسَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ کھڑے ہوں گے تو لوگوں تک آواز پہنچا نہیں سکیں فَقَالَتْ لَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ گے۔آپ عمر کو کیوں نہیں کہہ دیتے۔چنانچہ انہوں وَسَلَّمَ إِنَّكُنَّ لَأَلْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ مُرُوا ( حضرت حفصہ) نے حضور کی خدمت میں عرض أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ قَالَتْ فَأَمَرُوا أَبَا کیا۔تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یقینا تم تو یوسف بَكْرِ يُصَلِّي بِالنَّاسِ قَالَتْ فَلَمَّا دَخَلَ فِي والیاں ہو، ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا ئیں۔الصَّلَاة وَجَدَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وہ کہتی ہیں کہ تب انہوں نے حضرت ابو بکر سے کہا کہ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسه خِفَّةٌ فَقَامَ يُهَادَى بَيْنَ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔وہ کہتی ہیں کہ جب رَجُلَيْنِ وَرِجْلَاهُ تَخطَّانِ فِي الْأَرْضِ قَالَتْ انہوں نے نماز شروع کی تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی فَلَمَّا دَخَلَ الْمَسْجِدَ سَمعَ أَبُو بَكْر حسَّهُ طبیعت میں افاقہ محسوس کیا تو آپ دو آدمیوں کا سہارا ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ فَأَوْمَا إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى لے کر کھڑے ہوئے جبکہ آپ کے پاؤں زمین پر اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُمْ مَكَانَكَ فَجَاءَ رَسُولُ گھٹ رہے تھے۔وہ کہتی ہیں کہ جب آپ مسجد