صحیح مسلم (جلد دوم)

Page 174 of 303

صحیح مسلم (جلد دوم) — Page 174

حیح مسلم جلد دوم 174 كتاب الصلاة اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ دونوں سے کہا کہ مجھے ان کے پہلو میں بٹھا دو۔أَبِي بَكْرٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ چنانچہ انہوں نے آپ کو حضرت ابوبکر کے پہلو میں صلى الله قَاعِدٌ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَدَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللہ بٹھا دیا اور حضرت ابو بکر کھڑے ہو کر نبی نے کی بْنِ عَبَّاس فَقُلْتُ لَهُ أَلَا أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا اقتدا میں نماز پڑھ رہے تھے اور لوگ نماز میں حضرت حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ مَرَض رَسُول الله ابوبکر کی اقتداء کر رہے تھے جبکہ نبی ﷺ بیٹھے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هَاتِ فَعَرَضْتُ ہوئے تھے۔عبید اللہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ حَدِيثَهَا عَلَيْهِ فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّهُ بن عباس کے پاس گیا اور میں نے ان سے کہا کہ کیا قَالَ أَسَمَّتْ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ مَعَ میں آپ کے سامنے وہ روایت پیش نہ کروں جو الْعَبَّاسِ قُلْتُ لَا قَالَ هُوَ عَلِيٌّ [936] حضرت عائشہ نے رسول اللہ علہ کی بیماری کے بارہ میں مجھ سے بیان کی ؟ انہوں نے کہا کہ بیان کرو۔چنانچہ میں نے (حضرت عائشہؓ) کی روایت اُن کے سامنے پیش کی تو انہوں نے اس میں کسی بات کا انکار نہ کیا سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا کہ کیا انہوں ( حضرت عائشہؓ) نے تمہارے سامنے اس شخص کا نام لیا تھا جو حضرت عباس کے ساتھ تھا؟ میں نے کہا کہ نہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ حضرت علی تھے۔622 {91} حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ 622 حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ پہلے پہل بْنُ حُمَيْدِ وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعِ قَالَا حَدَّثَنَا جب رسول اللہ ﷺ بیمار ہوئے تو (جب ) آپ عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ حضرت میمونہ کے گھر میں تھے۔آپ نے اپنی بیویوں وَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْد الله بن عُتْبَةَ أَنَّ سے اجازت چاہی کہ آپ کی تیمار داری اُن عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ أَوَّلُ مَا اشْتَكَى (حضرت عائشہ ) کے گھر میں ہو اور انہوں نے آپ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْت کو اجازت دے دی۔وہ (حضرت عائشہ ) بیان مَيْمُونَةَ فَاسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي کرتی ہیں کہ آپ تشریف لائے۔آپ کا ایک ہاتھ