صحیح مسلم (جلد دوم) — Page 172
حیح مسلم جلد دوم 172 كتاب الصلاة [21]21: بَاب اسْتَخْلَافِ الْإِمَامِ إِذَا عَرَضَ لَهُ عُذْرٌ مِنْ مَرَضِ وَسَفَرٍ وَغَيْرِهِمَا مَنْ يُصَلِّي بِالنَّاسِ وَأَنَّ مَنْ صَلَّى خَلْفَ إِمَامٍ جَالِسِ لِعَجْزِهِ عَنِ الْقِيَامِ لَزِمَهُ الْقِيَامُ إِذَا قَدَرَ عَلَيْهِ وَنَسْحَ الْقُعُودِ خَلْفَ الْقَاعِدِ فِي حَقٌّ مَنْ قَدَرَ عَلَى الْقِيَامِ امام کا جب اس کو بیماری یا سفر وغیرہ کی وجہ سے کوئی عذر پیش آجائے تو کسی کو مقرر کرنا جو لوگوں کو نماز پڑھائے اور یہ کہ جو کسی بیٹھ کر نماز پڑھانے والے ) امام جو کھڑا نہ ہو سکے کے پیچھے نماز پڑھے تو اس کے لئے کھڑا ہونا لازم ہے۔اگر وہ ( کھڑا ہونے کی طاقت رکھتا ہے اور جو کھڑا ہونے کی طاقت رکھتا ہے اس کے لئے بیٹھ کر نماز پڑھانے والے کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے حکم کا منسوخ ہونا 621 (90) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ :621: عبید اللہ بن عبد اللہ سے روایت ہے وہ کہتے ر يُونُسَ حَدَّثَنَا زَائِدَةً حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَبِي ہیں کہ میں حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عَائِشَةَ عَنْ عُبَيْد الله بن الله قَالَ عرض کیا کہ کیا آپ مجھے رسول اللہ اللہ کی بیماری کے دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ لَهَا أَلَا تُحدثيني بارہ میں بتا ئیں گی؟ انہوں نے فرمایا کیوں نہیں۔عَنْ مَرَضِ رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ جب نبی کی بیماری شدت اختیار کر گئی تو ﷺ وَسَلَّمَ قَالَتْ بَلَى ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ آپ نے فرمایا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟ ہم وَسَلَّمَ فَقَالَ أَصَلَّى النَّاسُ قُلْنَا لَا وَهُمْ نے عرض کیا کہ نہیں بلکہ وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ضَعُوا لِي مَاءً یا رسول اللہ !۔آپ نے فرمایا کہ میرے لئے لگن میں فِي الْمِحْضَبِ فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ پانی رکھ دو۔چنانچہ ہم نے ایسا ہی کیا۔آپ نے غسل لِيَنُوءَ فَأَغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ أَصَلَّى فرمایا پھر آپ کوشش کر کے اٹھنے لگے مگر آپ پر غشی النَّاسُ قُلْنَا لَا وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ طاری ہوگئی۔پھر افاقہ ہوا تو آپ نے فرمایا کیا لوگوں اللَّهِ فَقَالَ ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِحْضَبِ نے نماز پڑھ لی ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ نہیں وہ تو فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ آپ کا انتظار کر رہے ہیں یا رسول اللہ ! آپ نے