صحیح مسلم (جلد دوم) — Page 139
حیح مسلم جلد دوم 139 كتاب الصلاة عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ پھیر کر تیزی سے بھاگ جاتا ہے۔رَسُولُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَذْنَ الْمُؤَذِّنُ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ خَصَاصَ [578] 576 {18} حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ حَدَّثَنَا :576 سہیل کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے بنی يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ عَنْ حارثہ کی طرف بھیجا انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ سُهَيْلِ قَالَ أَرْسَلَنِي أَبِي إِلَى بَنِي حَارِثَةَ قَالَ ہمارا غلام یا ہمارا ساتھی تھا۔باغ میں سے کسی نے اس وَمَعِي غُلَامٌ لَنَا أَوْ صَاحِبٌ لَنَا فَنَادَاهُ مُنَادٍ کا نام لے کر پکارا۔انہوں نے کہا کہ میرے ساتھی مِنْ حَائِط باسْمِهِ قَالَ وَأَشْرَفَ الَّذِي مَعِي نے دیوار سے جھانک کر دیکھا تو اس کو کچھ نظر نہ آیا۔عَلَى الْحَائِط فَلَمْ يَرَ شَيْئًا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ میں نے اس بات کا ذکر اپنے والد سے کیا تو انہوں لِأَبِي فَقَالَ لَوْ شَعَرْتُ أَنَّكَ تَلْقَ هَذَا لَمْ نے کہا کہ اگر مجھے اس کا علم ہوتا کہ تمہیں یہ پیش آئے أُرْسِلْكَ وَلَكِنْ إِذَا سَمِعْتَ صَوْنًا فَنَادِ گا تو میں تمہیں نہ بھیجتا لیکن آئندہ اگر تم کوئی آواز سنو تو بالصَّلَاة فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ اذان دیا کرو کیونکہ میں نے حضرت ابو ہریرہ سے سنا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا ہے وہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ نُودِيَ بِالصَّلَاةِ وَلَّى وَلَهُ حُصَاصَ [858] آپ نے فرمایا جب نماز کی اذان کہی جائے تو شیطان منہ پھیر کر تیزی سے بھاگ جاتا ہے۔577 (19) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدِ حَدَّثَنَا :577 حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِرَامِيَّ عَنْ أَبِي الزَّنَادِ عَنِ نے فرمایا کہ جب نماز کے لئے اذان دی جاتی ہے الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله تو شیطان دم دبا کر بھاگ جاتا ہے یہانتک کہ وہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا نُودِيَ ِللصَّلَاة أَدْبَرَ اذان نہیں سنتا۔پھر جب اذان ہو جائے تو آجاتا الشَّيْطَانُ لَهُ ضَرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ التَّأْذِينَ ہے۔یہانتک کہ جب نماز کے لئے اقامت کہی فَإِذَا قُضِيَ التَّأْذِينُ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا ثُوبَ جائے تو پھر پیٹھ پھیر لیتا ہے یہانتک کہ جب اقامت بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ حَتَّى إِذَا قُضِيَ التَّنْوِيبُ أَقْبَلَ ختم ہو تو واپس آ جاتا ہے اور آدمی اور اس کے دل میں حَتَّى يَحْطُرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ يَقُولُ لَهُ وسوسے ڈالنے لگتا ہے اور اسے کہتا ہے کہ فلاں بات