صحیح مسلم (جلد دوم) — Page 137
137 كتاب الصلاة وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذَنَ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ ایک ہے اُس کا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد اس کے بندے اور رسول وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ رَضِيتُ باللهِ ہیں۔میں اللہ کے رب ہونے اور محمد کے رسول رَبَّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا غُفِرَ لَهُ ہونے اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوں تو اس ذَنْبُهُ قَالَ ابْنُ رُمْحٍ فِي رِوَايَتِهِ مَنْ قَالَ حین کے گناہ بخش دیئے گئے۔يَسْمَعُ الْمُوَذْنَ وَأَنَا أَشْهَدُ وَلَمْ يَذْكُرْ قُتَيْبَةُ ابن رُح نے اپنی روایت میں کہا کہ جب مؤذن کو قَوْلَهُ وَأَنَا [851] سنے تو کہے وَاَنَا اَشْهَدُ مگر تنبیہ کی روایت میں آنا کا لفظ نہیں ہے۔[8] 8 بَاب فَضل الْأَذَانِ وَهَرَبِ الشَّيْطَانِ عِنْدَ سَمَاعِهِ اذان کی فضیلت اور اسے سن کر شیطان کا بھا گنا 572 {14} حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ 572: طلحہ بن سکی اپنے چچا سے روایت کرتے ہوئے نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى عَنْ کہتے ہیں کہ میں معاویہ بن ابوسفیان کے پاس تھا کہ عَمِّهِ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ان کے پاس مؤذن انہیں نماز کے لئے بلانے آیا فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ يَدْعُوهُ إِلَى الصَّلَاةِ فَقَالَ معاویہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے مُعَاوِيَةُ سَمِعْتُ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ہوئے سنا کہ قیامت کے دن اذان دینے والے وَسَلَّمَ يَقُولُ الْمُؤذِّلُونَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقَاً لوگوں میں سب سے لمبی گردن والے ہوں گے۔يَوْمَ الْقِيَامَة و حَدَّثَنِيهِ إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ [853,852]