صحیح مسلم (جلد دوم)

Page 130 of 303

صحیح مسلم (جلد دوم) — Page 130

حیح مسلم جلد دوم 130 كتاب الصلاة ح كِتَابُ الصَّلَاة کتاب: نماز کے بارہ میں [1]1 : بَاب بَدْءِ الْأَذَانِ اذان کی ابتداء 560 (1) حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ :560 حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ جب الْحَنْظَلِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرِح و حَدَّثَنَا مسلمان مدینہ آئے تو اکٹھے ہو کر نمازوں کے اوقات مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَا مقرر کیا کرتے تھے۔کوئی اس کے لئے اعلان نہیں أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنَيْ هَارُونُ بْنُ کرتا تھا۔ایک روز انہوں نے اس بارہ میں گفتگو کی۔عَبْدِ اللهِ وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ ان میں سے کسی نے کہا کہ نصلای کے ناقوس کی مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ طرح کوئی ناقوس * بنالو۔بعض نے کہا کہ یہود کے مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ نگل کی طرح بگل بنالو۔حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ آپ قَالَ كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدَمُوا الْمَدِينَةَ کوئی آدمی کیوں مقرر نہیں کر دیتے جو نماز کے لئے يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلَوَاتِ وَلَيْسَ بُلائے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے بلال! اٹھو يُنَادِي بِهَا أَحَدٌ فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا في ذلكَ اور نماز کے لئے بُلاؤ۔فَقَالَ بَعْضُهُمُ اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوس النَّصَارَى وَقَالَ بَعْضُهُمْ قَرْنَا مَثْلَ قَرْن الْيَهُود فَقَالَ عُمَرُ أَوَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا يُنَادِي بالصَّلَاة قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا بِلَالُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ [837] ناقوس گھنٹی کو بھی کہتے ہیں۔(منجد)