صحیح مسلم (جلد دوم) — Page 120
120 كتاب الحيض بِالْبَيْدَاءِ أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ القَطَعَ عِقْدْ لِي قیام پانی پر تھا اور نہ ہی لوگوں کے پاس پانی تھا۔تو فَأَقَامَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لوگ حضرت ابوبکر کے پاس آئے اور کہنے لگے کیا عَلَى الْتِمَاسِه وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ وَلَيْسُوا آپ دیکھتے نہیں کہ حضرت عائشہ نے کیا کیا؟ عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءً فَأَتَى النَّاسُ إِلَى رسول الله ﷺ اور آپ کے ساتھ لوگوں کو بھی ٹھہرا دیا أَبِي بَكْرِ فَقَالُوا أَلَا تَرَى إِلَى مَا صَنَعَتْ ہے نہ تو اس مقام پر پانی ہے اور نہ ہی ان کے پاس الله عَائِشَةُ أَقَامَتْ بِرَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ پانی ہے۔حضرت ابو بکر آئے اور رسول اللہ علی وَسَلَّمَ وَبِالنَّاسِ مَعَهُ وَلَيْسُوا عَلَى مَاء اپنا سر مبارک میری ران پر رکھے سوئے ہوئے تھے۔وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءً فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَرَسُولُ انہوں نے کہا کہ تم نے رسول اللہ ﷺ کو اور لوگوں کو اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعٌ رَأْسَهُ روک رکھا ہے۔اس جگہ پر جہاں پر پانی نہیں ہے اور عَلَى فَخِذِي قَدْ نَامَ فَقَالَ حَبَسْتَ رَسُولَ نہ ہی ان (لوگوں) کے پاس پانی ہے۔آپ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسَ وَلَيْسُوا (حضرت عائشہ) نے فرمایا کہ حضرت ابوبکر نے مجھے عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءً قَالَتْ فَعَاتَبَنِي ڈانا اور جو اللہ نے چاہا کہ وہ کہیں سو کہا اور میرے أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ وَجَعَلَ پہلو میں اپنے ہاتھ چھونے لگے۔رسول اللہ يَطْعُنُ بَيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي فَلَا يَمْنَعُنِي مِنَ کے سرمبارک کے میری ران پر ہونے نے مجھے التَّحَرُّكِ إِلَّا مَكَانُ رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ حرکت سے روکے رکھا۔پھر آپ سو گئے یہانتک کہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِي فَنَامَ رَسُولُ الله آپ نے صبح اس حال میں کی کہ پانی نہیں تھا۔تب صلى الله اللہ تعالیٰ نے آیت تیم ”فَتَيَمَّمُوا نازل فرمائی۔صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَصْبَحَ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ فَأَنْزَلَ اللهُ آيَةَ التَّيَمُّم فَتَيَمَّمُوا حضرت اسید بن حضیر جو نقیبوں میں سے ایک تھے کہنے لگے کہ اسے آلِ ابو بکر یہ تمہاری پہلی برکت نہیں فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ الْحُضَيْر وَهُوَ أَحَدُ التَّقَبَاء مَا هِيَ بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَتْ ہے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ پھر جب ہم نے عَائِشَةُ فَبَعَثْنَا الْبَعيرَ الَّذِي كُنتُ عَلَيْهِ اس اونٹ کو جس پر میں سوار تھی اُٹھایا تو ہار ہم نے اس کے نیچے پایا۔فَوَجَدْنَا الْعَقْدَ تَحْتَهُ [816]