صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 90
صحیح مسلم جلد اول 90 كتاب الايمان تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَسْلَمْتُ قَبْلَ ذَلِكَ فقرہ بار بار میرے سامنے دہراتے رہے یہاں تک کہ میں نے آرزو کی کہ میں آج سے پہلے مسلمان نہ الْيَوْمِ Я ہوا ہوتا۔134 {97} حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ :134 صفوان بن محرز سے روایت ہے کہ حضرت خِرَاشٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا جندب بن عبد اللہ انجلی نے حضرت ابن زبیر کے مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبي يُحَدِّثُ أَن خالدًا زمانہ آزمائش میں عسعس بن سلامہ کو کہلا بھیجا کہ الْأَثْبَجَ ابْنَ أَخِي صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزِ حَدَّثَ اپنے کچھ بھائیوں کو میرے لئے جمع کرو تا کہ میں ان عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزِ أَنَّهُ حَدَّثَ أَنْ سے کچھ باتیں کروں۔اس پر انہوں نے ان لوگوں کی جُنْدَبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِي بَعَثَ إِلَى طرف ایچی بھیجا۔جب وہ اکٹھے ہوئے تو حضرت عَسْعَسِ بْنِ سَلَامَةَ زَمَنَ فِتْنَةِ ابْنِ الزَّبَيْرِ جناب آئے۔انہوں نے ایک زردٹوپی پہنی ہوئی تھی۔انہوں نے کہا :وہ باتیں کرتے رہو جو پہلے فَقَالَ اجْمَعْ لِي نَفَرًا مِنْ إِخْوَانِكَ حَتَّى کر رہے تھے۔اس طرح گفتگو کا دور چلتا رہا یہاں أَحَدَّثَهُمْ فَبَعَثَ رَسُولًا إِلَيْهِمْ فَلَمَّا اجْتَمَعُوا تک کہ حضرت جندب کے بات کرنے کی باری آئی تو جَاءَ جُنْدَبٌ وَعَلَيْهِ بُرْنُسٌ أَصْفَرُ فَقَالَ انہوں نے ٹوپی سر سے اتار دی اور کہا: میں تمہارے الله تَحَدَّثُوا بمَا كُنتُمْ تَحَدَّثُونَ به حَتَّى دَارَ پاس آیا ہوں مگر میرا یہ ارادہ نہیں تھا کہ میں الْحَدِيثُ فَلَمَّا دَارَ الْحَدِيثُ إِلَيْهِ حَسَرَ تمہیں تمہارے نبی ﷺ کی کوئی بات بتاؤں الله الْبُرْسَ عَنْ رَأْسِهِ فَقَالَ إِنِّي أَتَيْتُكُمْ وَلَا رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کا ایک لشکر مشرکوں کی أُرِيدُ أَنْ أُخبِرَكُمْ عَنْ نَبِيِّكُمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ طرف بھیجا اور ان کی مٹھ بھیر ہوئی اور مشرکوں میں صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا مِنَ ایک ایسا آدمی تھا کہ جس مسلمان پر چاہتا حملہ کرتا اور الْمُسْلِمِينَ إِلَى قَوْمِ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَإِنَّهُمْ اسے قتل کر دیتا۔ایک مسلمان اس کے غافل ہونے کا الْتَقَوْا فَكَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِذَا شَاءَ منتظر رہا اور ہم کہتے تھے کہ وہ مسلمان حضرت اسامہ أَنْ يَقْصِدَ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَصَدَ لَهُ بن زید تھے۔جب اُنہوں نے اُس پر تلوار سونتی تو اس فَقَتَلَهُ وَإِنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمینَ قَصَدَ غَفْلَتَهُ نے کہا لا الہ الا اللہ “ مگر انہوں نے اُسے قتل کر دیا۔قَالَ وَكُنَّا تُحَدَّثُ أَنَّهُ أَسَامَةُ بْنُ زَيْدِ فَلَمَّا بشارت دینے والا نبی کریم ﷺ کے پاس آیا تو آپ