صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 88
صحیح مسلم جلد اول ثُمَّ الْجُنْدَعِي أَنْ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِي بْنِ الخيار أَخْبَرَهُ أَنَّ الْمِقْدَادَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْأَسْوَد الكندي وَكَانَ حَلِيفًا لَبَنِي زُهْرَةَ وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ 88 كتاب الايمان الله أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلًا مِنَ الْكُفَّارِ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ 132 {96) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ 132 حضرت اسامہ بن زید سے روایت ہے۔حَدَّثَنَا أَبو خالد الْأَحْمَرُ حَ وحَدَّثَنَا أَبُو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک مہم پر كُرَيْب وَإِسْحَقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي بھیجا۔صبح کے وقت ہم جہینہ کے حرقات * میں پہنچے۔مُعَاوِيَةً كِلَاهُمَا عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وہاں ایک شخص کو میں نے جالیا، اس نے کہا "لا الہ الا طبَيَانَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ وَهَذَا حَدِيثُ ابْنِ الله مگر میں نے اسے نیزہ مارا، پھر اس سے میرے أَبِي شَيْبَةَ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ دل میں خلش پیدا ہوئی تو میں نے اس کا ذکر نبی الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةِ فَصَبَّحْنَا الْحُرَقَاتِ ﷺ سے کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا اس مِنْ جُهَيْنَةَ فَأَدْرَكْتُ رَجُلًا فَقَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا نے لالہ لا الہ کہا اور تم نے اسے قتل کر دیا ؟ میں نے اللَّهُ فَطَعَنْتُهُ فَوَقَعَ فِي نَفْسي من ذلك عرض كيا يا رسول اللہ ! یہ تو اس نے ہتھیار کے ڈر سے فَذَكَرْتُهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ کہا تھا۔فرمایا تو تم نے کیوں اس کا دل نہ چیرا تا کہ تم رَسُولُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَالَ لَا جان لیتے کہ اس نے یہ ( دل سے ) کہا تھا یا نہیں۔إلَهَ إِلَّا اللهُ وَقَتَلْتَهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ آپ میرے سامنے یہ بات دہراتے رہے یہاں إِنَّمَا قَالَهَا خَوْفًا مِنَ السَّلَاحِ قَالَ أَفَلَا تک کہ میں نے یہ خواہش کی کہ کاش میں نے اس دن شفَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ حَتَّى تَعْلَمَ أَقَالَهَا أَمْ لَا فَمَا ہی اسلام قبول کیا ہوتا۔زَالَ يُكَبِّرُهَا عَلَيَّ حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي حضرت سعد نے کہا: خدا کی قسم میں کسی مسلمان کو قتل حرقات موضع ببلاد جهينه: جہینہ قبیلہ کے علاقہ میں ایک موضع کا نام ہے۔