صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 81
صحیح مسلم جلد اول 81 کتاب الایمان رَسُولِ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنَا کا نہ بتاؤں؟ آپ نے فرمایا اللہ کا شریک بنانا، أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ ثَلَاثًا الْإِسْرَاكُ بالله والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی گواہی دینا یا جھوٹ وَعُقُوقَ الْوَالِدَيْنِ وَشَهَادَةُ النُّورِ أَوْ قَوْلُ بولنا۔رسول اللہ ﷺے سہارا لئے ہوئے تھے۔آپ النُّورِ وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ بیٹھ گئے اور اس بات کو دہراتے چلے گئے ہم نے کہا وَسَلَّمَ مُتَكنًا فَجَلَسَ فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا حَتَّی کہ کاش آپ خاموش ہو جائیں۔قُلْنَا لَيْتَهُ سَكَتَ 119 {88} و حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبيب :119 حضرت انس نبی ﷺ سے بڑے بڑے الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ گناہوں کے بارہ میں روایت کرتے ہیں۔آپ نے حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فرمایا اللہ کا شریک بنانا، والدین کی نافرمانی کرنا کسی عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کو (ناحق) قتل کرنا اور جھوٹ بولنا۔في الْكَبَائِرِ قَالَ الشَّرْكُ بِاللَّه وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَقَوْلُ الزُّورِ 120 {۔۔۔} وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ :120: حضرت انس بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ عَبْدِ الْحَمِيدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا ﷺ نے کبیرہ گناہوں کا ذکر کیا یا آپ سے کبائر شَعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ کے بارہ میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا اللہ کا شریک قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالك قَالَ ذَكَرَ بنانا کسی جان کا قتل کرنا اور والدین سے بدسلوکی رَسُولُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَبَائِرَ کرنا۔پھر فرمایا: کیا میں تمہیں کبیرہ گناہوں میں سے أَوْ سُئِلَ عَنِ الْكَبَائِرِ فَقَالَ الشَّرْكُ بِاللهِ بھی بڑے گناہ کے بارہ میں آگاہ نہ کروں؟ آپ نے وَقَتْلُ النَّفْس وَعُقُوقُ الْوَالدَيْنِ وَقَالَ أَلَا فرمایا جھوٹ بولنا یا فرمایا جھوٹی گواہی دینا۔شعبہ نے أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ قَالَ قَوْلُ النُّورِ أَوْ کہا : میرا گمان غالب یہ ہے کہ آپ نے قَالَ شَهَادَةُ النُّورِ قَالَ شُعْبَةُ وَأَكْبَرُ ظَنِّي شَهَادَةُ النُّورِ فرمایا تھا۔أَنَّهُ شَهَادَةُ الرُّورِ