صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 65
صحیح مسلم جلد اول 65 کتاب الایمان 86 {62} حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدِ الْأَيْلِيُّ :86: عراک بن مالک سے روایت ہے۔انہوں نے حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبِ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو عَنْ حضرت ابو ہریرہ " کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكَ أَنَّهُ ﷺ نے فرمایا کہ اپنے آباء سے بے رغبتی نہ کرو جس سَمِعَ أَبَا هُرَيْر أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی نے اپنے باپ سے بے رغبتی کی وہ کافر ہے۔اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ أَبِيهِ فَهُوَ كُفْرٍ 87 {63} حَدَّثَنِي عَمْرُو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا 87: ابو عثمان سے روایت ہے کہ جب زیاد کو (کسی کی هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِي طرف منسوب کیا گیا تو میں حضرت ابو بکرہ سے ملا عُثْمَانَ قَالَ لَمَّا ادْعِيَ زِيَادٌ لَقِيتُ أَبَا بَكْرَةَ اور میں نے ان سے کہا یہ تم لوگوں نے کیا کیا ؟ میں فَقُلْتُ لَهُ مَا هَذَا الَّذِي صَنَعْتُمْ إِنِّي سَمِعْتُ نے حضرت سعد بن ابی وقاص کو کہتے ہوئے سنا کہ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ يَقُولُ سَمِعَ أُذُنَايَ مِنْ میں نے اپنے دونوں کانوں سے رسول اللہ ﷺ کو رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے اسلام میں اپنے يَقُولُ مَنِ ادَّعَى أَبًا فِي الْإِسْلَامِ غَيْرَ أَبِيهِ باپ کے علاوہ جانتے بوجھتے کسی اور کو اپنا باپ بنانے يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ فَقَالَ کا دعوی کیا جبکہ وہ اس کا باپ نہیں ہے تو اس پر جنت بَكْرَةَ وَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى حرام ہے۔اس پر حضرت ابو بکر گا نے کہا کہ میں نے اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یہ بات رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے۔88 {۔۔۔} حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ :88: حضرت سعد اور حضرت ابو بکرہ کہتے ہیں کہ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْن أَبي زَائِدَةَ وَأَبُو میرے دونوں کانوں نے یہ بات محمد ﷺ سے سنی اور مُعَاوِيَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ سَعْدِ میرے دل نے اسے محفوظ کر لیا۔آپ نے فرمایا وَأَبِي بَكْرَةَ كِلَاهُمَا يَقُولُ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ جس نے یہ بات جاننے کے باوجود کہ یہ اس کا باپ وَوَعَاهُ قَلْبِي مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نہیں ہے۔اپنے آپ کو اس کی طرف منسوب کیا تو يَقُولُ مَن ادَّعَى إِلَى غَيْر أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ اس پر جنت حرام ہے۔غَيْرُ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ