صحیح مسلم (جلد اوّل)

Page 39 of 300

صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 39

صحیح مسلم جلد اول 39 كتاب الايمان فَبَعَثْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ پڑھیں تا کہ میں اس جگہ کو جائے نماز بنالوں۔چنانچہ وَسَلَّمَ أَلَّي أُحبُّ أَنْ تَأْتِينِي فَتُصَلِّي في نبي ﷺ تشریف لائے اور آپ کے وہ صحابہ بھی جن مَنْزِلِي فَأَتَّخِذَهُ مُصَلَّى قَالَ فَأَتَى النَّبِيُّ کے متعلق اللہ نے چاہا داخل ہو گئے اور آپ میرے گھر صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ شَاءَ اللَّهُ مِنْ میں نماز پڑھ رہے تھے۔آپ کے صحابہ آپس میں أَصْحَابِهِ فَدَخَلَ وَهُوَ يُصَلِّي فِي مَنْزِلِي باتیں کرنے لگے۔پھر انہوں نے مالک بن دخشم پر اس وَأَصْحَابُهُ يَتَحَدَّثُونَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ أَسْنَدُوا عُظْمَ معاملہ کا (منافقوں سے تعلقات کا) الزام لگایا ذَلِكَ وَكِبْرَهُ إِلَى مَالِكِ بْنِ دُحْشُم قَالُوا راویوں نے کہا کہ انہوں نے چاہا کہ رسول اللہ وَدُّوا أَنَّهُ دَعَا عَلَيْهِ فَهَلَكَ وَدُّوا أَنَّهُ أَصَابَهُ ﷺ اس کے خلاف دعا کریں اور وہ ہلاک ہو جائے شَرٌّ فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ (اور) انہوں نے چاہا کہ اسے شر پہنچے۔رسول اللہ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ وَقَالَ أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے اور فرمایا کیا وہ گواہی نہیں إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالُوا إِنَّهُ يَقُولُ دیتا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ذَلِكَ وَمَا هُوَ فِي قَلْبِهِ قَالَ لَا يَشْهَدُ أَحَدٌ أَنْ ہوں؟ صحابہ نے کہا وہ کہتا ہے مگر یہ بات اس کے دل لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ الله فَيَدْخُلَ النَّارَ میں نہیں ہے۔آپ نے فرمایا جو شخص یہ گواہی دیتا ہے أَوْ تَطْعَمَهُ قَالَ أَنَسٌ فَأَعْجَبَنِي هَذَا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اس کا رسول ہوں الْحَدِيثُ فَقُلْتُ لِابْنِي اكْتُبُهُ فَكَتَبَهُ حَدَّثَنِي نہ وہ آگ میں داخل ہوگا یا نہ اس کو آگ کھائے گی۔أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعِ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا بَهْرٍ حَدَّثَنَا حضرت انس کہتے ہیں مجھے یہ حدیث بہت اچھی لگی اور حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتُ عَنْ أَنَسِ قَالَ حَدَّثَنِي میں نے اپنے بیٹے سے کہا اسے لکھ لو چنانچہ اس نے لکھ عتَبَانُ بْنُ مَالِكِ أَنَّهُ عَمِيَ فَأَرْسَلَ إِلَى ليا۔حضرت عتبان بن مالک کہتے ہیں کہ وہ نابینا ہو رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ گئے تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس کہلا بھیجا تَعَالَ فَخُطَّ لي مَسْجِدًا فَجَاءَ رَسُولُ الله کہ تشریف لائیں اور میرے لئے مسجد کی جگہ مقرر کر صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَاءَ قَوْمُهُ وَنُعِتَ دیں چنانچہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور اس رَجُلٌ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ مَالِكُ بْنُ الدُّحْشُم ثُمَّ ( یعنی عتبان بن مالک) کی قوم بھی آگئی۔ان میں ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ سے ایک آدمی کا ذکر کیا گیا جسے مالک بن دختم کہا جاتا