صحیح مسلم (جلد اوّل)

Page 37 of 300

صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 37

صحیح مسلم جلد اول 37 كتاب الايمان لِاسْتِي فَقَالَ ارْجِعْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَرَجَعْتُ کے جوتے ہیں اور آپ نے مجھے ان دونوں کے رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ساتھ بھیجا ہے کہ میں جس سے ملوں اور وہ گواہی دیتا فَأَجْهَمْتُ بُكَاءً وَرَكِبَنِي عُمَرُ فَإِذَا هُوَ ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور دل سے اس پر عَلَى أَثَرِي فَقَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ یقین رکھتا ہو تو میں اسے جنت کی بشارت دے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ؟ قُلْتُ دوں۔اس پر حضرت عمر نے میرے سینہ پر اپنا ہاتھ مارا لَقِيتُ عُمَرَ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي بَعَثْتَنِي به اور میں پشت کے بل گرا اور انہوں نے کہا: اے فَضَرَبَ بَيْنَ ثَدْبَيَّ ضَرْبَةً خَرَرْتُ لِاسْتِي ابوہریرة ! واپس جاؤ۔میں رسول اللہ علے کے پاس قَالَ ارْجِعْ قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ گیا اور رونے ہی لگا تھا کہ حضرت عمرؓ بھی میرے وَسَلَّمَ يَا عُمَرُ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ ؟ پیچھے پیچھے آپہنچے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبي أَنتَ وَأُمِّي أَبَعَثْتَ ابو ہریرہ ! تمہیں کیا ہوا؟ میں نے کہا میں عمرؓ سے ملا تھا أَبَا هُرَيْرَةَ بِنَعْلَيْكَ مَنْ لَقِيَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ اور اُن سے جو آپ نے مجھے دے کر بھیجا تھا بیان کیا۔إِلَّا اللهُ مُسْتَيْقنا بها قَلْبُهُ بَشَّرَهُ بِالْجَنَّة ؟ تو عمر نے مجھے سینہ پر زور سے مارا، میں پشت کے بل قَالَ نَعَمْ قَالَ فَلَا تَفْعَلْ فَإِنِّي أَخْشَى أَنْ گر گیا۔انہوں نے کہا واپس جاؤ۔رسول اللہ علی يَتَّكِلُ النَّاسُ عَلَيْهَا فَحَلِّهِمْ يَعْمَلُونَ قَالَ نے فرمایا اے عمر ! تم نے ایسا کیوں کیا ؟ انہوں نے رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَلْهِمْ کہا: یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، کیا آپ نے اپنی جوتیوں کے ساتھ ابو ہریرہ کو بھیجا تھا کہ جو اسے ملے اور وہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور اس کا دل اس بات پر یقین رکھتا ہوا سے جنت کی بشارت دے دے؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔انہوں نے کہا: ایسا نہ کیجیے کیوں کہ مجھے ڈر ہے کہ لوگ اسی پر بھروسہ کرنے لگ جائیں گے۔آپ ان کو عمل کرنے دیں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اچھارہنے دو۔