صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 36
حیح مسلم جلد اول 36 كتاب الايمان ☆ أَنْ يُقْتَطَعَ دُونَنَا وَفَزِعْنَا فَقُمْنَا فَكُنْتُ أَوَّلَ ڈھونڈنے کے لئے باہر نکل پڑا ، یہاں تک کہ میں مَنْ فَزِعَ فَخَرَجْتُ أَبْتَغِي رَسُولَ اللهِ صَلَّی انصار کے ایک باغ کے پاس آیا جو بنو نجار کا تھا۔میں اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَيْتُ حَائِطًا للأَنصار نے اس کے گرد چکر لگایا کہ دروازہ ڈھونڈوں مگر میں لبَنِي النَّجَّارِ فَدُرْتُ بِهِ هَلْ أَجِدُ لَهُ بَابًا فَلَمْ نے دروازہ نہ پایا۔پھر دیکھا کہ پانی کی ایک کھال أَجِدْ فَإِذَا رَبِيعٌ يَدْخُلُ فِي جَوْفِ حَائِط من باہر ایک کنویں سے باغ کے اندر جاتی ہے۔ربیع بڑی بِثْرٍ خَارِجَةِ وَالرَّبِيعُ: الْجَدْوَلُ فَاحْتَفَزَّت کھال کو کہتے ہیں۔میں اس میں لومڑی کے سمٹنے کی فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ طرح سمٹ سمٹا کر داخل ہوا اور رسول اللہ علے کے وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ؟ فَقُلْتُ نَعَمْ يَا پاس چلا گیا۔آپ نے پوچھا ابوہریرہ؟ میں نے رَسُولَ الله قَالَ مَا شَأْنُكَ؟ قُلْتُ كُنتَ بَيْنَ کہا: جی ہاں یا رسول اللہ ! فرمایا کیا بات ہے؟ میں أَظْهُرِنَا فَقُمْتَ فَأَبْطَأتَ عَلَيْنَا فَخَشِينَا أَنْ نے کہا آپ ہمارے درمیان تشریف فرما تھے پھر آپ تُقْتَطَعَ دُونَنَا فَفَزِعْنَا فَكُنْتُ أَوَّلَ مِنْ فَزِعَ اُٹھ کھڑے ہوئے مگر واپسی میں آپ کو دیر ہوگئی تو فَأَتَيْتُ هَذَا الْحَائِطَ فَاحْتَفَرْتُ كَمَا يَحْتَفِرُ ہم ڈر گئے کہ آپ ہم سے کٹ نہ جائیں تو ہم گھبرا التَّعْلَبُ وَهَؤُلَاءِ النَّاسُ وَرَائِي فَقَالَ يَا أَبَا گئے۔سب سے پہلے مجھے فکر پیدا ہوئی اور میں اس هُرَيْرَةَ وَأَعْطَانِي نَعْلَيْهِ قَالَ اذْهَبْ بِنَعْلَيَّ باغ کے پاس آیا اور لومڑی کی طرح سمٹ کر اس باغ هَاتَيْنِ فَمَنْ لَقِيتَ مِنْ وَرَاءِ هَذَا الْحَائِط میں داخل ہوا اور وہ لوگ میرے پیچھے ہیں۔آپ نے يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُسْتَيْقَنَا بِهَا قَلْبُهُ فرمایا اے ابو ہریرہ اور مجھے اپنے جوتے دیئے اور فَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ لَقِيتُ عُمَرُ فرمایا: میرے یہ دونوں جوتے لے جاؤ اور جو کوئی اس فَقَالَ مَا هَاتَانِ النَّعْلَانِ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ؟ فَقُلْتُ باغ کے پرے تمہیں ملے اور یہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ هَاتَانِ نَعْلَا رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کے سوا کوئی قابل عبادت نہیں اور دل سے اس پر یقین وَسَلَّمَ بَعَثَنِي بِهِمَا مَنْ لَقِيتُ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ رکھتا ہو اسے جنت کی بشارت دے دو۔میں سب إِلَّا اللَّهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ بَشَرتُهُ بِالْجَنَّةِ سے پہلے حضرت عمر سے ملا انہوں نے کہا اے ابو ہریرہ ! فَضَرَبَ عُمَرُ بِيَدِهِ بَيْنَ ثَدْيَيَّ فَخَرَرْتُ یہ جوتے کیسے ہیں؟ میں نے کہا: یہ رسول اللہ علی رسول لا کھال: بڑی نالی کو کہتے ہیں۔