صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 31
صحیح مسلم جلد اول 31 کتاب الایمان مَلَأُ الْقَوْمُ أَزْوِدَتَهُمْ قَالَ فَقَالَ عِنْدَ ذَلِكَ کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں اللہ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ لَا کا رسول ہوں۔اللہ سے جو بندہ ان دونوں (شہادتوں ) يَلْقَى اللَّهَ بِهِمَا عَبْدٌ غَيْرَ شَاكٌ فِيهِمَا إِلَّا کے ساتھ اس حال میں ملے گا کہ اس کو ان دونوں دَخَلَ الْجَنَّةَ باتوں پر شک نہیں ہوگا تو ضرور جنت میں داخل ہوگا۔32 {۔۔۔} حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ وَأَبُو :32 حضرت ابو ہریرہ یا حضرت ابوسعید ( اعمش کو كُرَيْب مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ جَمِيعًا عَنْ أَبِي شک ہے ) سے روایت ہے کہ جب غزوہ تبوک کے مُعَاوِيَةً قَالَ أَبُو كُرَيْب حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ دن تھے تو لوگوں کو سخت بھوک لگی۔انہوں نے کہا یا عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رسول اللہ ! اگر آپ ہمیں اجازت دیں تو ہم اپنے أَوْ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ شَكَ الْأَعْمَسُ قَالَ لَمَّا پانی لانے والے اونٹ ذبح کر لیں اور ہم کھا ئیں اور كَانَ غَزْوَةُ تَبُوكَ أَصَابَ النَّاسَ مَجَاعَةٌ چکنائی استعمال کریں۔آپ نے فرمایا کرلو۔راوی کہتے قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَذِنْتَ لَنَا فَنَحَرْنَا ہیں اس پر حضرت عمر آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! نَوَاضِحَنَا فَأَكَلْنَا وَادَّهَنَّا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ اگر آپ نے ایسا کیا تو سواریاں کم ہو جائیں گی ہاں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ افْعَلُوا قَالَ فَجَاءَ لوگوں کو اپنا باقی ماندہ زاد راہ لانے کا ارشاد فرمائیں عُمَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ فَعَلْتَ قَلَّ اور پھر ان کے لئے اس پر برکت کے لئے دعا الظَّهْرُ وَلَكِنِ ادْعُهُمْ بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ ثُمَّ کریں۔بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس میں برکت رکھ ادْعُ اللَّهَ لَهُمْ عَلَيْهَا بِالْبَرَكَةِ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ دے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہاں۔راوی کہتے يَجْعَلَ فِي ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الله ہیں آپ نے ایک چمڑے کا دستر خوان منگوایا اور بچھا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ قَالَ فَدَعَا بِنطَعِ فَبَسَطَهُ ثُمَّ دیا اور پھر ان کے باقی ماندہ زاد منگوائے۔راوی کہتے دَعَا بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ قَالَ فَجَعَلَ الرَّجُلُ ہیں کوئی مٹھی بھر مکئی لایا اور کوئی مٹھی بھر کھجور میں اور کوئی يَجِيءُ بِكَفِّ ذُرَةٍ قَالَ وَيَجِيءُ الْآخَرُ بِكَف روٹی کا ٹکڑ اوغیرہ لے آیا یہاں تک کہ اس دسترخوان تَمْرِ قَالَ وَيَجِيءُ الْآخَرُ بِكِسْرَةِ الْآخَرُ بِكِسْرَةٍ حَتَّى پر اس میں سے کچھ تھوڑا سا اکٹھا ہو گیا۔راوی کہتے اجْتَمَعَ عَلَى النَّطَعِ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٍ يَسيرٌ ہیں رسول اللہ ﷺ نے اس پر برکت کی دعا کی ، پھر قَالَ فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ فرمایا: اپنے برتنوں میں لے لو۔انہوں نے برتنوں