صحیح مسلم (جلد اوّل)

Page 29 of 300

صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 29

صحیح مسلم جلد اول 29 كتاب الايمان 28 {25} حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ وَابْنُ أَبِي :28 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا مَرْوَانُ عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ رسول اللہ اللہ نے اپنے چچا کی وفات کے وقت اُن كَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سے فرما یا لا الہ الا اللہ کہہ دو، میں قیامت کے دن قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تمہارے حق میں اس کی گواہی دوں گا مگر انہوں نے لعَمّه عِنْدَ الْمَوْتِ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ أَشْهَدُ انکار کر دیا۔اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَبَى فَأَنْزَلَ اللَّهُ إِنَّكَ لَا کی ( ترجمہ ) یقینا تو جسے چاہے ہدایت نہیں دے تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ الْآيَةَ سکتا۔(القصص:57) صر الله 29 {۔۔۔} حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتم بن مَيْمُون :29 حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ علی حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ نے اپنے چچا سے فرمایا لا الہ الا اللہ کہہ دو میں قیامت كَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمِ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ أَبِي کے دن آپ کے حق میں اس کی گواہی دوں گا۔هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ انہوں نے کہا اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ قریش مجھے وَسَلَّمَ لِعَمِّهِ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ لَكَ بِهَا مطعون کریں گے اور کہیں گے کہ گھبراہٹ نے اسے يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ لَوْلَا أَنْ تُغَيِّرَنِي قُرَيْشٍ یہ کہنے پر اکسایا ہے تو میں یہ کہہ کر تیری آنکھیں ٹھنڈی يَقُولُونَ إِنَّمَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ الْجَزَعُ کرتا * اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ( ترجمہ ) لَأَقْرَرْتُ بِهَا عَيْنَكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ إِنَّكَ لَا تَهْدِي یقینا تو جسے چاہے ہدایت نہیں دے سکتا لیکن اللہ جسے مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ چاہے ہدایت دے سکتا ہے۔(القصص:57) [10]11 : بَاب الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ مَنْ مَاتَ عَلَى التَّوْحِيدِ دَخَلَ الْجَنَّةَ قَطْعًا باب: اس بات کی دلیل کہ جو تو حید پر فوت ہوا قطعی جنتی ہے 30{26} حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ 30: حضرت عثمان نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبِ كِلَاهُمَا عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ جو اس حال میں مرا کہ وہ جانتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ عبادت کے لائق نہیں وہ جنت میں داخل ہوگا۔علامہ شبلی نعمانی اپنی تصنیف سیرت النبی ﷺ حصہ اول صفحہ 165، 166 زیر عنوان وفات حضرت ابو طالب کہتے ہیں کہ رسول اکرم ابو طالب کی مرض الموت کے وقت تشریف لائے اور انہیں کہا کہ اے چچا ! اسے یعنی کلمہ شہادت کو پڑھو۔میں اس کے ذریعہ تمہاری شفاعت کروں گا جب موت کا وقت قریب ہوا تو ابو طالب نے اپنے ہونٹوں کو حرکت دی۔حضرت عباس نے اس کی طرف اپنے کان لگائے اور کہا بخدا اے میرے بھتیجے ابو طالب نے وہی کلمہ پڑھا ہے جس کا کہ آپ نے انہیں کہا تھا۔جس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمام تعریفیں اس خدا کے لئے ہیں۔اے چچا جس نے تمہیں ہدایت دے دی۔“