صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 27
حیح مسلم جلد اول 27 کتاب الایمان أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبو خالد نے نبی ﷺ کو فرماتے سنا جس نے اللہ کو واحد قرار الْأَحْمَرُ ح وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبِ حَدَّثَنَا دیا۔اس کے بعد وہی روایت ہے۔: يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي مَالِكِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ وَحْدَ اللَّهَ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِهِ [9]10: بَاب الدَّلِيلِ عَلَى صِحَّةِ إِسْلَامِ مَنْ حَضَرَهُ الْمَوْتُ مَا لَمْ يَشْرَعْ فِي النَّزْعِ وَهُوَ الْعَرْغَرَةُ وَنَسَحْ جَوَازِ الاسْتِغْفَارِ لِلْمُشْرِكِينَ وَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ مَنْ مَاتَ عَلَى الشِّرْكِ فَهُوَ مِنْ أَصْحَابِ الْجَحِيمِ وَلَا يُنْقِذُهُ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ مِنَ الْوَسَائِلِ جس کو موت آئے مگر حالت نزع شروع نہ ہو یعنی غرغرہ ، اس کے اسلام کے صحیح ہونے کی دلیل اور مشرکین کے لئے استغفار کے جواز کی منسوخی اور اس بات پر دلیل کہ جو شرک پر مر جائے وہ دوزخیوں میں سے ہے اور کوئی وسیلہ اس کو اس سے نہیں بچا سکے گا 27 {24} و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى :27 : سعید بن مسیب اپنے والد سے روایت کرتے التُجِيبِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ ہیں انہوں نے کہا کہ جب ابو طالب کی وفات کا أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي وقت آیا تو رسول اللہ ﷺ ان کے پاس گئے تو اُن سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا کے پاس ابو جہل ، عبداللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ کو پایا۔حَضَرَتْ أَبَا طَالب الْوَفَاةُ جَاءَهُ رَسُولُ الله رسول اللہ اللہ نے فرمایا اے میرے چا ! لا الہ الا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ عِنْدَهُ أَبَا جَهْلِ اللہ کہہ دیں ، یہ ایک کلمہ ہے جس کے ذریعہ سے میں وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَقَالَ اللہ کے پاس آپ کے لئے اس کی گواہی دوں گا۔ابو رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَمُ قُلْ جہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ نے کہا: اے ابو طالب ! إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ كَلِمَةً أَشْهَدُ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ کیا تم عبد المطلب کے دین سے ہٹ رہے ہو۔اور فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ يَا أَبَا رسول الله ﷺ ان کو یہی بات پیش کرتے رہے اور