صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 24
صحیح مسلم جلد اول 24 کتاب الایمان أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ الله بْنُ عَبْد الله بن عُتْبَةَ بن خلیفہ ہوئے اور عربوں میں سے جس نے کفر کرنا تھا مَسْعُودٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ کفر کیا تو حضرت عمر بن خطاب نے حضرت ابو بکر رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے کہا آپ لوگوں سے کیسے لڑیں گے؟ جبکہ وَاسْتَخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ مِنَ الْعَرَبِ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لأَبي ان لوگوں سے لڑائی کروں یہاں تک کہ وہ لا الہ الا بَكْرٍ كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللہ کا اقرار کریں اور جو شخص لا الہ الا اللہ کا اقرار کرے اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ گا وہ مجھ سے اپنا مال اور جان بچالے گا سوائے کسی حق النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَمَنْ قَالَ لَا کی بناء پر اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے تو حضرت إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلَّا ابو بکر نے کہا اللہ کی قسم! جو بھی نماز اور زکوۃ کے بحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّه فَقَالَ أَبُو بَكْرِ درمیان فرق کرے گا میں اس سے لڑوں گا کیونکہ وَاللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ زَکوۃ مال کا حق ہے اور اللہ کی قسم اور اگر انہوں نے فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ وَالله لَوْ مَنَعُونِي مجھے ایک گھٹنا باندھنے والی رسی دینے سے بھی انکار کیا عقَالًا كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُول اللَّه صَلَّى جو وہ رسول اللہ ﷺ کو دیتے تھے تو اس کے نہ دینے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعه فَقَالَ پر بھی ان سے لڑوں گا۔حضرت عمر بن خطاب کہتے عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ ہیں کہ اللہ کی قسم ! پھر میں نے دیکھا کہ اللہ نے رَأَيْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي حضرت ابو بکر کا لڑائی کے لئے سینہ کھول دیا ہے اور بَكْرِ لِلْقَتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّقُ میں سمجھ گیا کہ یہی حق ہے۔22{21} وحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ :22 حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ يَحْيَى وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى قَالَ أَحْمَدُ حَدَّثَنَا ﷺ نے فرمایا مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ لڑائی جاری رکھوں یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہہ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي دیں اور جو شخص لا الہ الا اللہ کا اقرار کرے گا وہ مجھ سے سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخبَرَهُ أَنَّ اپنا مال اور جان محفوظ کر لے گا سوائے کسی حق کی بناء رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ پر اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔