صحیح مسلم (جلد اوّل)

Page 23 of 300

صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 23

صحیح مسلم جلد اول 23 كتاب الايمان تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ عِبَادَةُ الله عَزَّ وَجَلَّ فَإِذَا تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان پر زکوۃ فرض کی ہے جوان عَرَفُوا اللَّهَ فَأَخْبَرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْهِمْ کے امیروں سے لی جاتی ہے اور ان کے غریبوں کو دی خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِهِمْ وَلَيْلَتِهِمْ فَإِذَا جاتی ہے۔جب وہ یہ بات مان لیں تو ان سے زکوٰۃ فَعَلُوا فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ لینا مگر ان کے عمدہ اموال سے بچنا۔زَكَاةً تُوْحَدُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ فَإِذَا أَطَاعُوا بِهَا فَخُذْ مِنْهُمْ وَتَوَقَ كَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ [8] بَاب الْأَمْرِ بقتال النَّاسِ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ وَيُؤْمِنُوا بِجَمِيعِ مَا جَاءَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّ مَنْ فَعَلَ ذَلكَ عَصَمَ نَفْسَهُ وَمَالَهُ إِلَّا بِحَقِّهَا وَوُكِّلَتْ سَرِيرَتْهُ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى وَقِتَالِ مَنْ مَنَعَ الزَّكَاةَ أَوْ غَيْرَهُمَا مِنْ حُقُوقِ الْإِسْلَامِ وَاهْتِمَامِ الْإِمَامِ بِشَعَائِرِ الْإِسْلَامِ لوگوں سے لڑائی ( جاری رکھنے ) کا حکم * یہاں تک کہ وہ لا الہ الا الہ محمد رسول اللہ کا اقرار کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں اور جو کچھ نبی ﷺ لائے ہیں اس سب پر ایمان لا ئیں اور جس نے یہ کہا اس نے اپنے آپ کو اور اپنے مال کو بچالیا سوائے کسی حق کی بناء پر اور اس کا اندرونہ اللہ کے سپر د کیا جائے گا اور ان سے جنگ کرنا * جوز کوۃ اور دیگر اسلامی حقوق نہیں دیتا اور امام کا شعائر اسلام کا اہتمام کرنا 21 {20} حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا :21 حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ لَيْثُ بْنُ سَعْدِ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ ﷺ کی وفات ہوئی اور آپ کے بعد حضرت ابو بکر یہاں جن لوگوں سے لڑائی کا حکم ہے انہوں نے جارحانہ حملے کی ابتداء کی تھی یا نظام سلطنت کے خلاف بغاوت اور سرکشی کا علم بلند کیا ور نہ قرآن شریف فرماتا ہے لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ۔( البقرہ: 257 ) کہ دین میں کوئی جبر نہیں ہے۔