صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 20
صحیح مسلم جلد اول 20 20 کتاب الایمان عَمِّه بالسَّيْف قَالَ وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ أَصَابَتْهُ میں سے کوئی اپنے چچا زاد پر تلوار چلاتا ہے۔راوی جرَاحَةٌ كَذَلِكَ قَالَ وَكُنتُ أَخْبَؤُهَا حَيَاء نے کہا ان لوگوں میں سے ایک کو ایسا ہی زخم پہنچا ہوا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تھا۔اس نے کہا میں اس زخم کو رسول اللہ ﷺ سے شرم فَقِيمَ نَشْرَبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فِي کی وجہ سے چھپارہا تھا۔میں نے کہا یا رسول اللہ ! پھر ہم أَسْقِيَةِ الْأَدَمِ الَّتِي يُلَاثُ عَلَى أَفْوَاهِهَا قَالُوا کس میں پئیں؟ فرمایا چمڑے کے مشکیزوں میں جن کا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَرْضَنَا كَثِيرَةُ الْجِرْدَان منہ باندھا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا: یا نبی اللہ ! وَلَا تَبْقَى بِهَا أَسْقِيَةُ الأَدَمِ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ ہمارے علاقہ میں چوہے بہت ہوتے ہیں اور اس صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ أَكَلَتْهَا میں چمڑے کے مشکیزے محفوظ نہیں رہتے تو نبی اللہ الْجِرْدَانُ وَإِنْ أَكَلَتْهَا الْجِرْدَانُ وَإِنْ ﷺ نے فرمایا اگر چہ انہیں چوہے کھا جائیں، اگر چہ أَكَلَتْهَا الْحِرْدَانُ قَالَ وَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی انہیں چوہے کھا جائیں، اگرچہ انہیں چوہے کھا اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَشَرِّ عَبْدِ الْقَيْسِ إِنَّ فِيكَ جائیں۔پھر نبی اللہ علیہ نے عبد القیس کے احتج سے لَخَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللهُ الْحِلْمُ وَالْأَناةُ فرمایا تجھ میں دو باتیں ایسی ہیں جنہیں اللہ پسند کرتا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا ہے ایک علم دوسرا ٹھہراؤ۔حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدِ عَنْ قَتَادَةَ ابونضرہ نے حضرت ابوسعید خدری سے روایت کی ہے قَالَ حَدَّثَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ لَقِيَ ذَاكَ الْوَفْدَ کہ جب عبد القیس کا وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت وَذَكَرَ أَبَا نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدِ الْخُدْرِيِّ أَنَّ میں حاضر ہوا۔انہوں نے ابن علیہ والی روایت سنائی وَقْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ سوائے اس کے کہ اس میں یہ بھی ہے کہ تم اس الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدیث میں قطیعاء ( کھجور کی قسم) یا خشک کھجور اور پانی ڈالتے ابْنِ عُلَيَّةَ غَيْرَ أَنَّ فِيهِ وَتَذِيفُونَ فِيه مِنَ ہو، اور یہ نہیں کہا کہ سعید نے کہایا آپ نے فرمایا الْقُطَيْعَاء أَو التَّمْرِ وَالْمَاء وَلَمْ يَقُلْ قَالَ مِنَ التَّمَرِ یعنی خشک کھجور۔سَعِيدٌ أَوْ قَالَ مِنَ التَّمَرِ 18 {۔۔۔} حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ الْبَصْرِيُّ :18: حضرت ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں کہ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْج ح و عبد القیس کا وفد جب اللہ کے نبی ﷺ کی خدمت