صحیح مسلم (جلد اوّل)

Page 21 of 300

صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 21

صحیح مسلم جلد اول 21 كتاب الايمان حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعِ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا میں حاضر ہوا تو انہوں نے کہا اے اللہ کے نبی! اللہ عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ہمیں آپ پر فدا کرے۔ہمارے لئے کون سے أَبُو قَرْعَةَ أَنَّ أَبَا نَضْرَةَ أَخْبَرَهُ وَحَسَنًا مشروبات اچھے اور مناسب ہیں؟ آپ نے فرمایا أَخْبَرَهُمَا أَنْ أَبَا سَعِيدِ الْخُدْرِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ نقیر میں کچھ نہ پیٹو۔انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا أَتَوْا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللہ ہمیں آپ پر فدا کرے۔کیا آپ جانتے ہیں کہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا يَا نَبِيَّ اللهِ جَعَلَنَا اللهُ تقیر کیا ہوتا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں، تنے کو درمیان فِدَاءَكَ مَاذَا يَصْلُحُ لَنَا مِنَ الْأَشْرِبَةِ فَقَالَ لَا سے کھوکھلا کیا جاتا ہے۔اسی طرح دبا ء اور ختم میں بھی تَشْرَبُوا فِي النَّقِيرِ قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَعَلَنَا نہ پیو۔ایسے مشکیزوں میں پیؤ جن کا منہ باندھا اللَّهُ فَدَاءَكَ أَوَ تَدْرِي مَا النَّقِيرُ قَالَ نَعَمْ گیا ہو۔الجذع يُنقَرُ وَسَطُهُ وَلَا فِي الدُّبَّاءِ وَلَا فِي الْحَنْتَمَةِ وَعَلَيْكُمْ بِالْمُوكَى [7]۔۔۔بَاب الدُّعَاءِ إِلَى الشَّهَادَتَيْنِ وَشَرَائِعِ الْإِسْلَامِ دو شہادتوں ( توحید اور رسالت ) کی طرف اور اسلام کے احکام کی طرف بلانا 19 {19} حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبي شَيْبَةَ :19: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت وَأَبُو كُرَيْب وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا معاذ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے بھیجا اور عَنْ وَكِيعِ قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ فرمایا تم اہل کتاب کی ایک قوم کی طرف جارہے ہو زَكَرِيَّاءَ بْنِ إِسْحَقَ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ ان کو اس شہادت کی طرف بلاؤ کہ اللہ کے سوا کوئی عَبْدِ اللَّهِ بْن صَيْفِيٌّ عَنْ أَبِي مَعْبَد عَن ابن عبادت کے لائق نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول عَبَّاسٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَل قَالَ أَبُو بَكْرِ رُبَّمَا ہوں۔اگر وہ یہ بات مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے قَالَ وَكِيعٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاس أَنْ مُعَاذَا قَالَ ان پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔اگر وہ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یہ بھی تسلیم کر لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان پر قَالَ إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ صدقہ فرض کیا ہے جو ان کے امیروں سے لیا جائے صدقہ سے یہاں مراد ز کوۃ ہے۔