صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 19
صحیح مسلم جلد اول 19 کتاب الایمان 17 {18} حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا 17 : قتادہ کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس ابْنُ عُلَيَّةَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ آنے والے عبدالقیس کے وفد سے ملے تھے انہوں قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مَنْ لَقِيَ الْوَقْدَ الَّذِينَ نے مجھے یہ بات بتائی ہے اور حضرت ابوسعید خدری قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ کی اس روایت میں ہے کہ عبدالقیس کے کچھ لوگ وَسَلَّمَ مِنْ عَبْدِ الْقَيْس قَالَ سَعِيدٌ وَذَكَرَ رسول الله ﷺ کے پاس آئے اور کہا یا نبی اللہ! ہم قَتَادَةُ أَبَا نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدِ الْخُدْرِيِّ فِي ربیعہ کا ایک قبیلہ ہیں اور ہمارے اور آپ کے درمیان حَدِيثِهِ هَذَا أَنْ أُنَاسًا مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ قَدِمُوا مصر قبیلہ کے کفار حائل ہیں اور ہم آپ کے پاس عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صرف حرمت والے مہینوں میں ہی آسکتے ہیں۔اس فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّا حَيٌّ مِنْ رَبِيعَةَ وَبَيْنَنَا لئے آپ ہمیں حکم دیں جو ہم پچھلوں کو بھی بتائیں وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ وَلَا نَقْدِرُ عَلَيْكَ إِلَّا فِي اور اس پر عمل کر کے اس کے ذریعہ جنت میں داخل أَشْهُرِ الْحُرُمِ فَمُرْنَا بِأَمْرِ تَأْمُرُ بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا ہوں۔اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تمہیں چار وَتَدْخُلُ به الْجَنَّةَ إِذَا نَحْنُ أَخَذْنَا بِهِ فَقَالَ باتوں کا حکم دیتا ہوں اور چار باتوں سے منع کرتا رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آمُرُكُمْ ہوں اللہ کی عبادت کرد کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ اور بِأَرْبَعٍ وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا نماز قائم کرو اور زکوۃ دو، رمضان کے روزے رکھو اور تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا قیمتوں میں سے پانچواں حصہ دو اور میں تمہیں چار الزَّكَاةَ وَصُومُوا رَمَضَانَ وَأَعْطُوا الْحُمُسَ چیزوں یعنی دباء، عنتم ، مزفت اور نقیر سے منع کرتا مِنَ الْغَنَائِمِ وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ عَنِ الدُّبَاءِ ہوں۔انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! نقیر کے وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ والنَّقِيرِ قَالُوا يَا نَبِيَّ بارے میں کیا آپ کو علم ہے؟ فرمایا: کیوں نہیں ، یہ تنا الله مَا عِلْمُكَ بالتَّقِيرِ قَالَ بَلَى جِذْعُ ہوتا ہے جسے تم کھرچ ڈالتے ہو ، پھر اس میں تَنْقُرُونَهُ فَتَقْذِفُونَ فِيهِ مِنَ الْقُطَيْعَاءِ قَالَ قطيعاء ( ایک قسم کی کھجور ) ڈالتے ہو۔سعید کہتے ہیں یا سَعِيدٌ أَوْ قَالَ مِنَ السَّمْرِ ثُمَّ تَصُبُّونَ فِيه مِنَ فرمايا خشک کھجور ڈالتے ہو، پھر تم اس میں کچھ پانی الْمَاءِ حَتَّى إِذَا سَكَنَ غَلَيَانُهُ شَرِبْتُمُوهُ حَتَّى ڈالتے ہو یہاں تک کہ جب اس کا جوش تھم جاتا ہے تو إِنَّ أَحَدَكُمْ أَوْ إِنْ أَحَدَهُمْ لَيَضْرِبُ ابْنَ تم اسے پیتے ہو یہاں تک کہ تم میں سے کوئی یا ان