صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 18
صحیح مسلم جلد اول 18 كتاب الايمان وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعِ قَالَ أَمَرَهُمْ بِالْإِيمَانِ بِاللَّهِ ایمان لانے کا حکم دیا جو ایک ہے پھر پوچھا کیا تم وَحْدَهُ وَقَالَ هَلْ تَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بالله جانتے ہو اللہ پر ایمان کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ شَهَادَةُ أَنْ لَا کہا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔آپ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ وَإِقَامُ نے فرمایا: اس بات کی شہادت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی الصَّلَاةَ وَإِيتَاءُ الزَّكَاة وَصَوْمُ رَمَضَانَ وَأَنْ عبادت کے لائق نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں تُؤَدُّوا حُمُسًا مِنَ الْمَعْنَم وَنَهَاهُمْ عَنِ اور نماز قائم کرنا ، زکوۃ دینا اور رمضان کے روزے الدُّبَّاءِ وَالْحَلْتَمِ وَالْمُزَفْتِ قَالَ شُعْبَةُ وَرُبَّمَا رَکھنا اور یہ کہ تم غنیمت میں سے پانچواں حصہ دو قَالَ النَّقِيرِ قَالَ شُعْبَةُ وَرُبَّمَا قَالَ الْمُقَيَّرِ اور آپ نے انہیں دباء ختم اور مزفت ( تارکول لگے وَقَالَ احْفَظُوهُ وَأَخْبِرُوا بِهِ مِنْ وَرَائِكُمْ و ہوئے برتن ) سے روکا اور شعبہ کہتے ہیں کہ راوی قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي رِوَايَتِهِ مَنْ وَرَاءَكُمْ وَلَيْسَ بسا اوقات نقیر اور بسا اوقات مقیر کہتے تھے۔فِي رِوَايَتِهِ الْمُقَيَّرِ و حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ آپ نے فرمایا: ان باتوں کو یاد رکھو اور جو تمہارے مُعَاذَ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ پیچھے ہیں ان کو بھی بتاؤ۔ابوبکر کی روایت میں منُ الْجَهْضَمِيُّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَا جَمِيعًا وَرَاءِ كُمْ کی بجائے مَنْ وَرَاءَ كُمُ کے لفظ ہیں۔حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِد عَنْ أَبِي جَمْرَةَ عَنِ ابْنِ اور اس میں المُقَيِّرُ کا لفظ نہیں ہے۔عَبَّاس عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت ابن عباس سے دوسری روایت میں مروی بِهَذَا الْحَدِيثِ نَحْوَ حَدِيثِ شُعْبَةَ وَقَالَ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تمہیں اس نبیذ أَنْهَاكُمْ عَمَّا يُنْبَدُ في الدُّبَاءِ وَالنَّقير سے منع کرتا ہوں جود باء، نقیر جفتم اور مزفت میں بنائی وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَزَادَ ابْنُ مُعَاذِ فِي جائے۔ابن معاذ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا حَدِيثِهِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ الله صَلَّی ہے جو انہوں نے اپنے باپ سے کی ہے۔وہ کہتے اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَشَنِّ أَشَرِّ عَبْدِ الْقَيْس ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عبد القیس کے اشتج* سے إِنَّ فِيكَ خَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ الْحِلْمُ فرمایا کہ تم میں دو خصلتیں ایسی ہیں جن کو اللہ بہت پسند کرتا ہے۔حلم اور ٹھہراؤ۔ا شیخ عبدالقیس کے سردار کا لقب تھا۔وَالْأَنَاةُ