صحیح مسلم (جلد اوّل)

Page 242 of 300

صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 242

صحیح مسلم جلد اول 242 كتاب الايمان رَأَى الْعَدُوَّ فَانْطَلَقَ يَرْبَاً أَهْلَهُ فَخَشِيَ أَنْ کو دیکھا اور اپنے اہل کی حفاظت کے لئے چلا مگر وہ يَسْقُوهُ فَجَعَلَ يَهْتِفُ يَا صَبَاحَاهُ و حَدَّثَنَا ڈرا کہ دشمن اس سے پہلے اس (کے اہل) تک پہنچ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ جائیں گے تو وہ آوازیں دینے لگا یا صباحاہ أَبِيهِ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ عَمْرٍو وَقَبِيصَةَ بْنِ مُحَارِقٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ 299 {208} وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْب مُحَمَّدُ :299 حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ جب آیت بْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ وَانْذِرُ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ ﴾ اور اپنے قریبی عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرِ عَنِ ابْنِ رشتہ داروں کو ڈراؤ (الشعراء: 215) نازل ہوئی یعنی عَبَّاس قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذه الْآيَةُ وَأَنذِرْ اپنے قبیلہ میں سے چنیدہ کو تو رسول اللہ سے نکلے اور عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ وَرَهْطَكَ مِنْهُمْ صفا پر چڑھے اور پکار ایا صباحاہ ! لوگوں نے کہا یہ کون الْمُخْلَصِينَ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ ہے جو پکار رہا ہے۔دوسروں نے کہا یہ محمد ہے۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى صَعِدَ الصَّفَا فَهَتَفَ يَا چنانچہ لوگ آپ کے پاس جمع ہو گئے۔آپ نے صَبَاحَاهُ فَقَالُوا مَنْ هَذَا الَّذِي يَهْتِفُ قَالُوا فرمایا: اے بنی فلاں ! اے بنی فلاں! اے بنی مُحَمَّدٌ فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ فَقَالَ يَا بَنِي فُلَان يَا فلاں ! اے بنی عبد مناف ! اے بنی عبدالمطلب ! یہ بَنِي فُلَان يَا بَنِي فُلَان يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافِ يَا بَنِي سارے لوگ جمع ہو گئے تو آپ نے فرمایا تمہارا کیا عَبْد الْمُص ، فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ فَقَالَ أَرَأَيْتَكُمْ خیال ہے اگر میں تمہیں خبر دوں کہ اس پہاڑ کے دامن لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنْ خَيْلا تَخْرُجُ بِسَفْح هَذَا میں گھوڑ سوار دستہ حملہ کرے گا تو کیا تم میری بات مان الْجَبَلِ أَكُنتُمْ مُصَدِّقِيَّ قَالُوا مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ لو گے؟ انہوں نے کہا: ہم نے تمہیں کبھی جھوٹ كَذِبًا قَالَ فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابِ بولتے نہیں دیکھا تو آپ نے فرمایا میں تمہیں ایک شَدِيدٍ قَالَ فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ تَبَّا لَكَ أَمَا جَمَعْتَنَا شدید عذاب سے پہلے ہوشیار کرتا ہوں۔راوی کہتے : یا صباحاہ (اس کے لفظی معنے ہائے صبح ہیں ) عرب لوگ یہ کلمہ کسی بڑے خطرہ کے موقعہ پر بولتے تھے۔تاکہ لوگ جمع ہو جائیں اور اس کے لئے تیار ہو جائیں۔