صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 243
حیح مسلم جلد اول 243 كتاب الايمان ـا لِهَذَا ثُمَّ قَامَ فَتَزَلَتْ هَذه السُّورَةُ تَبَّتْ يَدَا ہیں اس پر ابو لہب نے کہا تیرا بُرا ہو کیا تم نے ہمیں أَبِي لَهَبٍ وَقَدْ تَبَّ كَذَا قَرَأَ الْأَعْمَسُ إِلَى صرف اس لئے جمع کیا تھا؟ اور وہ اٹھ کھڑا ہوا۔یہ سورۃ آخِرِ السُّورَةِ وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ نازل ہوئی تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ - (اللهب:2) وَأَبُو كُرَيْب قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَن اعمش نے اس طرح آخر سورۃ تک پڑھا۔رسول اللہ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ صَعَدَ رَسُولُ الله ﷺ ایک دن صفا پر چڑھ گئے اور آواز دی یا صباحاہ۔صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمِ الصَّفَا فَقَالَ راوی نے ابواسامہ کی روایت کی طرح روایت کی مگر يَا صَبَاحَاهُ بِنَحْوِ حَدِيث أَبي أَسَامَةَ وَلَمْ آیت وَانْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ ﴾ اور يَذْكُرْ نُزُولَ الْآيَةِ وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ (الشعراء: 215) کے نزول کا ذکر نہیں کیا۔[90]89 : بَاب شَفَاعَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي طَالِبٍ وَالتَّخْفِيفِ عَنْهُ بِسَبَبِهِ نبی ﷺ کی ابوطالب کے لئے شفاعت اور آپ کی وجہ سے ان کو سہولت 300 209 وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ الله بْنُ عُمَرَ :300 حضرت عباس بن عبد المطلب سے روایت ہے الْقَوَارِيرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرِ الْمُقَدَّمِيُّ کہ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! کیا آپ نے ابوطالب وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأُمَوِيُّ قَالُوا کو بھی کچھ فائدہ پہنچایا ہے۔وہ آپ کی حفاظت حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرِ کرتے تھے اور آپ کی خاطر دوسروں پر ناراض " عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنِ ہوتے تھے۔آپ نے فرمایا ہاں وہ ٹخنوں تک آگ میں الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ ہیں اگر میں نہ ہوتا تو وہ آگ کے نچلے حصہ میں ہوتے۔ه ملفوظات جلد سوم صفحہ 200 پر زیر عنوان ” حضرت ابو طالب کی نجات“ لکھا ہے۔بعض لوگ جو کہ غیر مذاہب میں برائے نام ہوتے ہیں مگر خلوص دل سے وہ اسلام کے مداح ہوتے ہیں ان کے ذکر پر فرمایا: ابوطالب کی بھی ایسی ہی حالت تھی خدا تعالی کی یہ عادت نہیں ہے کہ ایک خبیث اور شریر کو ایک ادب اور لحاظ کرنے والے کے برابر کر دیوے۔اگر اس نے بظاہر تو مذہب قبول نہیں کیا مگر بزرگ سالی کی رعونت اس میں نہ تھی۔احادیث میں بھی اس قدر تحقیقات کہیں نہیں ہوئی ہے۔ممکن ہے کہ اس نے کبھی کلمہ پڑھ دیا ہو۔بجز اعتقاد کے محبت نہیں ہوا کرتی۔اول عظمت دل میں بیٹھتی ہے پھر محبت ہوتی ہے۔۔سیر وسوانح کی بعض دوسری کتب میں آپ کا اسلام قبول کرنا بھی مذکور ہے۔دیکھیں صفحہ 29۔