صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 239
صحیح مسلم جلد اول 239 کتاب الایمان بتایا جو انہوں نے پوچھا تھا اور وہ زیادہ جانتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے کہا اے جبریل محمد کے پاس جاؤ اور کہو ہم تیری امت کے بارہ میں تجھے ضرور خوش کر دیں گے اور تمہیں دیکھ نہیں دیں گے۔871881 : بَاب بَيَان أَنَّ مَنْ مَاتَ عَلَى الْكُفْرِ فَهُوَ فِي النَّارِ وَلَا تَنَالُهُ شَفَاعَةٌ وَلَا تَنْفَعُهُ قَرَابَةُ الْمُقَرَّبِينَ اس بارہ میں کہ جو کفر پر مرے وہ آگ میں جائے گانہ اسے کوئی شفاعت پہنچے گی اور نہ ہی مقربین کی قرابت اسے نفع دے گی 294 {203} حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ :294 حضرت انس سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ کہا یا رسول اللہ! میرا باپ کہاں ہے؟ آپ نے فرمایا ثَابِتِ عَنْ أَنَسٍ أَنْ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ الله آگ میں ہے۔جب وہ واپس جانے لگا تو آپ نے أَيْنَ أَبِي قَالَ فِي النَّارِ فَلَمَّا قَفَّى دَعَاهُ فَقَالَ اسے بلایا اور فرمایا میرا باپ اور تیرا باپ آگ میں إِنْ أَبِي وَأَبَاكَ فِي النَّارِ [89]88: بَاب فِي قَوْلِهِ تَعَالَى وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ ہے۔اللہ تعالیٰ کا یہ قول وَانْذِرُ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ (اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ) 295 {204} حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَزُهَيْرُ :295: حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل بْنُ حَرْب قَالَا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلَك ہوئی وَاَنْذِرُ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ ﴾ اور اپنے بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبي قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ (الشعراء: 215) تو رسول اللہ هُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا أَنزَلَتْ هَذه الْآيَةُ وَأَنْذَرْ ﷺ نے قریش کو بلایا اور وہ جمع ہوئے۔آپ نے عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ دَعَا رَسُولُ الله صَلَّى عمومی طور پر بھی انذار کیا اور مخصوص افراد کو بھی۔آپ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشًا فَاجْتَمَعُوا فَعَمَّ نے فرمایا اے بنی کعب بن لوی ! اپنی جانوں کو آگ به روایت دوسری مستند روایات کی وجہ سے مشتبہ معلوم ہوتی ہے۔