صحیح مسلم (جلد اوّل)

Page 232 of 300

صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 232

صحیح مسلم جلد اول 232 كتاب الايمان اذْهَبُوا خطيئَةُ أَبِيكُمْ آدَمَ لَسْتُ بِصَاحِب ذَلكَ اہل نہیں۔میں اللہ کا خلیل ہوں مگر (اس منصب إِلَى ابْنِي إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ اللَّهِ قَالَ الله قَالَ سے پرے موسیٰ ﷺ کا قصد کرو جن سے خدا نے صلى الله فَيَقُولُ إِبْرَاهِيمُ لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ إِنَّمَا خوب کلام کیا پھر لوگ موسیٰ ﷺ کے پاس كُنتُ خَلِيلًا مِنْ وَرَاءَ وَرَاءَ اعْمِدُوا إِلَی جائیں گے تو وہ کہیں گے یہ میرے بس سے باہر مُوسَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي كَلَّمَهُ ہے۔عیسی کے پاس جاؤ جو کلمۃ اللہ اور اس کی اللَّهُ تَكْلِيمًا فَيَأْتُونَ مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ روح ہے۔عیسی ع کہیں گے میں تو اس کا اہل وَسَلَّمَ فَيَقُولُ لَسْتُ بِصَاحِب ذَلِكَ اذْهَبُوا نہیں ہوں پس وہ محمد ہے کے پاس جائیں گے۔إلَى عِيسَى كَلِمَةِ اللَّهِ وَرُوحِهِ فَيَقُولُ چنانچہ آپ کھڑے ہوں گے۔آپ کو اجازت دی عِيسَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتُ جائے گی اور امانت * اور رحم بھیجا جائے گا۔وہ بِصَاحِب ذَلِكَ فَيَأْتُونَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ (پلِ صراط کے دائیں بائیں کھڑے ہو جائیں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُومُ فَيُؤْذَنَ لَهُ وَتُرْسَلُ الْأَمَانَةُ گے۔تم میں سے پہلے بجلی کی طرح گزر جائیں وَالرَّحِمُ فَتَقُومَانِ جَنَبَتَ الصِّرَاطِ يَمِينًا گے۔راوی کہتے ہیں میں نے کہا میرے ماں باپ جنبتي وَشِمَالًا فَيَمُرُّ أَوَّلُكُمْ كَالْبَرْقِ قَالَ قُلْتُ آپ پر فدا ہوں کون سی چیز بجلی کے گزرنے کی طرح بِأَبِي أَنتَ وَأُمِّي أَيُّ شَيْءٍ كَمَرِّ الْبَرْقِ قَالَ ہے؟ آپ نے فرمایا تم نے بجلی کو نہیں دیکھا کہ وہ کیسے أَلَمْ تَرَوْا إِلَى الْبَرْقِ كَيْفَ يَمُرُّ وَيَرْجِعُ فِي گزرتی ہے اور پلک جھپکنے میں لوٹتی ہے۔پھر طَرْفَةِ عَيْنِ ثُمَّ كَمَرُ الرِّيحِ ثُمَّ كَمَرِّ الطَّيْرِ دوسرے ہوا کے چلنے کی طرح۔پھر تیسرے پرندہ کے وَشَدَّ الرِّجَالِ تَجْرِي بِهِمْ أَعْمَالُهُمْ وَنَبيُّكُمْ گزرنے کی طرح اور آدمیوں کے دوڑنے کی طرح۔) قَائِمٌ عَلَى الصِّرَاطِ يَقُولُ رَبِّ سَلَّمْ سَلّمْ ان کے اعمال ان کو تیزی سے لے کر چلیں گے۔حَتَّى تَعْجَزَ أَعْمَالُ الْعِبَادِ حَتَّى يَجِيءَ اور تمہارا نبی پل صراط پر کھڑا ہوگا۔وہ کہے گا اے الرَّجُلُ فَلَا يَسْتَطِيعُ السَّيْرَ إِلَّا زَحْفًا قَالَ میرے رب! سلامتی نازل فرما ، سلامتی نازل فرما وَفِي حَافَتَي الصَّرَاطِ كَلَالِیبُ مُعَلَّقَةٌ یہا تک کہ بندوں کے اعمال تھک کر رہ جائیں گے مَأْمُورَةٌ بِأَحْدِ مَنْ أُمِرَتْ بِهِ فَمَحْدُوش ناج یہاتک کہ ایسا آدمی آئے گا جو چل نہ سکے گا مگر گھسٹ : امانت یعنی فرائض کی ادائیگی اور صلہ رحمی پل صراط پر گویا نیک لوگوں کی حفاظت کا ذریعہ بنے گی۔