صحیح مسلم (جلد اوّل)

Page 231 of 300

صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 231

صحیح مسلم جلد اول 望 231 کتاب الایمان انہوں نے کہا کیوں کر؟ آپ نے فرمایا لوگ تمام جہانوں کے رب کے سامنے کھڑے ہوں گے۔آگے راوی نے ابوزرعہ سے ہم معنی روایت بیان کی اور یہ کہ انہوں نے حضرت ابراہیم" کے قصّہ میں کچھ اضافہ کیا۔اور ستارے کے بارہ میں آپ کے اس قول کا ذکر کیا ”هذا ربي‘ کہ یہ میرا رب ہے اور معبودوں کے بارہ میں آپ کے اس قول کا ” بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمُ هذا ( بلکہ ان کے اس سردار نے یہ کام کیا ہے)۔نیز آپ کا یہ قول ” إِنِّی سَقِیمُ “ ( یقیناً میں بیمار ہونے والا ہوں) آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے یقیناً جنت کے دروازوں کے دونوں کواڑوں اور دروازہ کی دہلیز میں مکہ اور ھجر یا ھجر اور مکہ جتنا فاصلہ ہے۔راوی کہتے ہیں میں نہیں جانتا انہوں نے کیا کہا۔280 {195} حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفِ بْنِ 280 حضرت ابو ہریرہ اور حضرت حذیفہ کہتے ہیں کہ خَلِيفَةَ الْبَجَلِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ رسول الله ﷺ نے فرمایا اللہ تبارک و تعالیٰ لوگوں کو حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكِ الْأَسْجَعِيُّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ جمع کرے گا اور مؤمن کھڑے ہوں گے یہانتک کہ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبُو مَالِكِ عَنْ رِبْعِيِّ عَنْ جنت ان کے قریب کر دی جائے گی۔وہ آدم کے حُذَيْفَةً قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ پاس جائیں گے اور کہیں گے اے ہمارے باپ! وَسَلَّمَ يَجْمَعُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى النَّاسَ ہمارے لئے جنت کا دروازہ کھلوا دیں۔وہ کہیں گے فَيَقُومُ الْمُؤْمِنُونَ حَتَّى تُزْلَفَ لَهُمُ الْجَنَّةُ تمہارے باپ آدم کی خطا کے سوا کس چیز نے تمہیں فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ يَا أَبَانَا اسْتَفْتِحْ لَنا جنت سے نکالا ہے۔میرے بیٹے ابراہیم خلیل اللہ الْجَنَّةَ فَيَقُولُ وَهَلْ أَخْرَجَكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ إِلَّا کے پاس جاؤ۔ابراہیم کہیں گے میں تو اس (کام) کا