صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 230
صحیح مسلم جلد اول 230 كتاب الايمان فَقَالَ أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُمَّ نَهَسَ اور ایسی خوبصورت ثناء کھولے گا۔جو اس نے مجھ سے أُخْرَى فَقَالَ أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ پہلے کسی پر نہ کھولے ہوں گے پھر کہا جائے گا۔اے فَلَمَّا رَأَى أَصْحَابَهُ لَا يَسْأَلُونَهُ قَالَ أَلَا محمدا اپنا سر اٹھاؤ، مانگو تمہیں دیا جائے گا، شفاعت کرو، تَقُولُونَ كَيْفَهُ قَالُوا كَيْفَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔میں اپنا سر يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ وَسَاقَ الْحَدیث اٹھاؤں گا اور عرض کروں گا۔اے میرے رب ! میری بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي حَيَّانَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ،امت میری امت۔پھر کہا جائے گا۔اے محمد ! اپنی وَزَادَ فِي قِصَّةِ إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ وَذَكَرَ قَوْلَهُ امت میں سے ان لوگوں کو جن کے ذمہ کوئی حساب فِي الْكَوْكَبِ هَذَا رَبِّي وقَوْله لالهتهمْ بَلْ نہیں جنت کے دروازوں میں سے دائیں دروازہ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا وقَوْله إِنِّي سَقِيمٌ قَالَ سے جنت میں داخل کر دے اور وہ باقی دروازوں میں وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّد بَيَدِهِ إِنْ مَا بَيْنَ بھی لوگوں کے برابر کے شریک ہوں گے۔اس ذات الْمِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَاريع الْجَنَّةِ إِلَى کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے جنت کے ! عِصَادَتَيِ الْبَابِ لَكَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَهَجَرٍ أَوْ دروازے کے دونوں کواڑوں میں اتنا فاصلہ ہے جتنا هَجَرٍ وَمَكَّةَ قَالَ لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَ مکہ اور ہجر کے درمیان ہے یا جتنا مکہ اور بصری کے درمیان میں ہے۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ مے کے سامنے شرید کا پیالہ اور گوشت پیش کیا گیا تو آپ نے دستی لی اور آپ کو بکری کے گوشت ) میں سے دستی سب سے زیادہ پسند تھی۔آپ نے منہ سے ( گوشت ) کاٹا اور فرمایا قیامت کے دن میں لوگوں کا سردار ہوں گا۔پھر آپ نے دوسری مرتبه ( گوشت ) کا ٹا اور فرمایا میں قیامت کے دن لوگوں کا سردار ہوں گا۔جب آپ نے اپنے صحابہ کو دیکھا کہ وہ آپ سے کوئی سوال نہیں کر رہے تو آپ نے فرمایا تم لوگ کہتے کیوں نہیں کہ کیونکر؟