صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 225
صحیح مسلم جلد اول 225 کتاب الایمان يَوْمَئِذٍ جَمِيعٌ فِيمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ لَيْسَ ذَاكَ لَكَ کہا اے ابوسعید ! ہم آپ کے بھائی ابو حمزہ کے پاس أَوْ قَالَ لَيْسَ ذَاكَ إِلَيْكَ وَلَكِنْ وَعِزَّتِي سے آپ کے پاس آئے ہیں۔شفاعت کے بارہ میں وَكِبْرِيَائِي وَعَظَمَتِي وَجِبْرِيَانِي لَأُخْرِجَنَّ جو روایت انہوں نے ہمیں بتائی ہے اس جیسی روایت مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ فَأَشْهَدُ عَلَى ہم نے (پہلے) کبھی نہیں سنی تھی۔انہوں نے کہا بیان الْحَسَنِ أَنَّهُ حَدَّثَنَا بِهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ کرو۔پھر ہم نے انہیں وہ روایت بتائی تو انہوں نے مَالك أَرَاهُ قَالَ قَبْلَ عشرينَ سَنَةٌ وَهُوَ کہا اور بتاؤ، ہم نے کہا اس سے زیادہ انہوں نے نہیں بتائی۔انہوں نے کہا ہمیں انہوں نے یہ حدیث ہیں برس پہلے بتائی تھی ان دنوں وہ خوب صحت مند تھے۔یقیناوہ کچھ چھوڑ گئے ہیں۔میں نہیں جانتا کہ شیخ بھول گئے ہیں یا انہوں نے تمہیں بتانا پسند نہیں کیا کہ تم اس پر تکیہ کر بیٹھو گے۔ہم نے ان سے کہا ہمیں بتائیے۔اس پر وہ ہنس پڑے اور کہا انسان میں جلد بازی کا مادہ رکھا گیا ہے۔میں نے صرف اس لئے ہی اس کا ذکر کیا ہے تا کہ میں تمہیں اس کے بارہ میں بتاؤں ( کہ حضور نے فرمایا تھا ) پھر میں چوتھی مرتبہ اپنے رب کی طرف لوٹوں گا اور انہی محامد کے ساتھ اس کی حمد کروں گا۔پھر اس کے حضور سجدہ ریز ہو جاؤں گا تو مجھ سے کہا جائے گا اے محمد ! اپنا سر اٹھاؤ کہو تمہاری سنی جائے گی اور مانگو تمہیں دیا جائے گا اور شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔پھر میں عرض کروں گا اے میرے رب ! ان کے بارہ میں جنہوں نے لاالہ الا اللہ کہا مجھے اجازت عطاء فرما۔وہ فرمائے گا یہ تیرے لئے نہیں ہے یا فرمایا یہ تیرے سپرد نہیں ہے