صحیح مسلم (جلد اوّل)

Page 224 of 300

صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 224

صحیح مسلم جلد اول 224 کتاب الایمان فَيُقَالُ لِي يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ وَقُلْ اس کی حمد کروں گا اور پھر اس کے حضور سجدہ میں گر يُسْمَعْ لَكَ وَسَلْ تُعْطَهْ وَاشْفَعْ تُشَفّع جاؤں گا۔تو مجھ سے کہا جائے گا اے محمد ! اپنا سر اٹھاؤ فَأَقُولُ يَا رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي فَيُقَالُ لِي انْطَلِق اور کہو تمہاری سنی جائے گی اور مانگو تمہیں دیا جائے گا فَمَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ أَدْنَى أَدْنَى أَدْنَى من اور شفاعت کرو، تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔مِثْقَالِ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانِ فَأَخْرِجْهُ میں کہوں گا میری امت ، میری امت۔مجھے کہا جائے مِنَ النَّارِ فَأَنْطَلِقُ فَأَفْعَلُ هَذَا حَدِيثُ أَنَسِ گا جاؤ ، جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر الَّذِي أَنْبَأَنَا بِه فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ فَلَمَّا كُنَّا ( بھی ) ایمان ہے اسے (آگ) سے باہر نکال دو۔بِظَهْرِ الْجَبَّانِ قُلْنَا لَوْ مِلْنَا إِلَى الْحَسَنِ چنانچہ میں جاؤں گا اور ایسا ہی کروں گا۔پھر میں اپنے فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ وَهُوَ مُسْتَخفِ فِي دَارِ أَبِي رب کے پاس واپس جاؤں گا اور ان محامد کے ساتھ خَلِيفَةً قَالَ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَقُلْنَا اس کی حمد کروں گا اور پھر اس کے حضور سجدہ میں گر يَا أَبَا سَعِيدٍ جِئْنَا مِنْ عِنْدِ أَخِيكَ أَبِي حَمْزَةَ جاؤں گا۔تو مجھ سے کہا جائے گا اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ فَلَمْ تَسْمَعْ مِثْلَ حَدِيث حَدَّثَنَاهُ في اور کہو تمہاری سنی جائے گی اور مانگو تمہیں دیا جائے گا الشَّفَاعَة قَالَ هَيَه فَحَدَّثَنَاهُ الْحَدِيث فَقَالَ اور شفاعت کرو، تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔هيَهِ قُلْنَا مَا زَادَنَا قَالَ قَدْ حَدَّثَنَا به مُنْذُ میں کہوں گا میری امت ، میری امت۔مجھے کہا جائے عِشْرِينَ سَنَةً وَهُوَ يَوْمَئِذٍ جَمِيعٌ وَلَقَدْ تَرَكَ مَا جاؤ، جس کے دل میں رائی کے دانہ کے وزن سے شَيْئًا مَا أَدْرِي أَنَسِيَ الشَّيْخُ أَوْ كَرِهَ أَنْ کم ، کم کم ، ایمان ہے اسے آگ سے نکال دیں۔يُحَدَّثَكُمْ فَتَكلُوا قُلْنَا لَهُ حَدَّثَنَا فَضَحِكَ چنانچہ میں جاؤں گا اور ( ایسا ہی کروں گا۔یہ وَقَالَ خَلَقَ الْإِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ مَا ذَكَرْتُ حضرت انسؓ کی روایت ہے جو انہوں نے ہم سے لَكُمْ هَذَا إِلَّا وَأَنا أُرِيدُ أَنْ أُحَدَّتَكُمُوهُ ثُمَّ بیان کی۔پس ہم ان کے پاس سے نکلے۔جب ہم أَرْجِعُ إِلَى رَبِّي فِي الرَّابِعَةِ فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ جہان کی چوٹی پر پہنچے تو ہم نے کہا کیوں نہ ہم حسن الْمَحَامِدِ ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا فَيُقَالُ لِي يَا (بصرى ) کی طرف جائیں اور انہیں سلام کہیں۔جبکہ مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ وَقُلْ يُسْمَعْ لَكَ وَسَلَّ وہ ابو خلیفہ کے گھر میں چھپے ہوئے تھے۔وہ کہتے ہیں تُعْطَ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَقُولُ يَا رَبِّ ائْذَنْ لِي پھر ہم ان کے پاس گئے اور انہیں سلام کیا اور ہم نے ود۔