صحیح مسلم (جلد اوّل)

Page 216 of 300

صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 216

صحیح مسلم جلد اول 216 کتاب الایمان 273 {۔۔۔} حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشاعرِ :273 حضرت جابر بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ ﷺ نے فرمایا یقیناً ایک قوم کو آگ سے نکالا جائے سُلَيْمِ الْعَنْبَرِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ الْفَقِيرُ گا وہ اس (آگ) میں جل جائیں گے سوائے ان حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ کے چہروں کی گولائی کے یہانتک کہ وہ جنت میں الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ قَوْمًا داخل ہو جائیں گے۔يُخْرَجُونَ مِنَ النَّارِ يَحْتَرقُونَ فِيهَا إِلَّا دَارَاتِ وُجُوهِهِمْ حَتَّى يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ 274 {۔۔۔} و حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشاعرِ :274: يزيد الفقیر کہتے ہیں کہ خوارج کی ایک رائے حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنِ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ میرے دل میں کھب گئی۔ہم ایک بڑی جماعت يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ حَدَّثَنِي کے ساتھ نکلے۔ہمارا ارادہ تھا کہ حج کریں گے پھر يَزِيدُ الْفَقِيرُ قَالَ كُنتُ قَدْ شَغَفَنِي رَأْيِّ مِنْ لوگوں کے خلاف خروج کریں گے۔جب ہم مدینہ رَأَيِ الْحَوَارِجِ فَخَرَجْنَا فِي عِصَابَةٍ ذَوِي سے گزرے تو حضرت جابر بن عبداللہ ایک ستون عَدَدِ تُرِيدُ أَنْ نَحُجَّ ثُمَّ نَخْرُجَ عَلَى النَّاسِ کے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں کو رسول اللہ ﷺ کی قَالَ فَمَرَرْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ فَإِذَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ احادیث سنا رہے تھے۔اسی اثناء میں انہوں نے الله يُحَدِّثُ الْقَوْمَ جَالِسٌ إِلَى سَارِيَةٍ عَنْ جہنمیوں کا ذکر کیا تو میں نے ان سے کہا اے صحابی رَسُول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَإِذَا رسول الله ! آپ کیا روایتیں سنا رہے ہیں۔اللہ هُوَ قَدْ ذَكَرَ الْجَهَنَّمِيِّينَ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ يَا تعالی تو فرماتا ہے ﴿إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ صَاحِبَ رَسُول الله مَا هَذَا الَّذِي تُحَدِّثُونَ اَخْزَيْتَهُ ﴾ ( آل عمران : 193) یعنی جس کو تو نے وَاللَّهُ يَقُولُ إِنَّكَ مَنْ تُدخل النَّارَ فَقَدْ آگ میں داخل کر دیا اسے رسوا کر دیا اور كُلَّما أَخْزَيْتَهُ وَ كُلَّمَا أَرَادُوا أَنْ يَخْرُجُوا مِنْهَا أَرَادُوا أَنْ يَخْرُجُوا مِنْهَا أُعِيدُوا فِيهَا ﴾ أُعِيدُوا فِيهَا فَمَا هَذَا الَّذِي تَقُولُونَ قَالَ (السجده :21 ) یعنی وہ جب بھی نکلنے کا ارادہ کریں فَقَالَ أَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَهَلْ گے اس میں لوٹا دیئے جائیں گے۔یہ آپ کیا باتیں ہ : خوارج کی رائے تھی کہ جہنم دائمی ہے۔