صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 213
حیح مسلم جلد اول الله 213 کتاب الایمان عَزَّ وَجَلَّ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا پس کوئی ذی روح نہیں جانتا کہ ان کے لئے آنکھوں أَخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّة أَعْيُنِ الْآيَةَ حَدَّثَنَا أَبُو کی ٹھنڈک میں سے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے اُس نُمَيْرٍ ° كُرَيْب حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ عَبْدِ کی جزاء کے طور پر جو وہ کیا کرتے تھے۔الْمَلكُ بْن أَبْجَرَ قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ کو يَقُولُ سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يَقُولُ عَلَى منبر پر کہتے سنا کہ موسیٰ علیہ السلام نے اللہ عزوجل الْمِنْبَرِ إِنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامِ سَأَلَ اللَّهَ عَزَّ سے اہلِ جنت میں سب سے کم حصہ پانے والے کے وَجَلَّ عَنْ أَحَسٍ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنْهَا حَظًّا متعلق پوچھا اور پھر ویسی ہی روایت بیان کی۔وَسَاقَ الْحَدِيثَ بَنَحْوه 269 {190} حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ :269 حضرت ابوذر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ عَنِ رسول الله ﷺ نے فرمایا میں اہل جنت میں سب الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ أَبِي ذَرِّ قَالَ قَالَ سے آخر پر جنت میں داخل ہونے والے اور سب رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي سے آخر پر آگ والوں میں سے اس سے نکلنے والے لَأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُحُولًا الْجَنَّةَ وَآخِرَ کو خوب جانتا ہوں۔ایک شخص قیامت کے دن لایا أَهْلِ النَّارِ حُرُوجًا مِنْهَا رَجُلٌ يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ جائے گا اور کہا جائے گا اسکے چھوٹے چھوٹے گناہ الْقِيَامَة فَيُقَالُ اعْرِضُوا عَلَيْهِ صغَارَ ذُنُوبہ اسکے سامنے پیش کرو اور بڑے بڑے گناہ اس سے وَارْفَعُوا عَنْهُ كَبَارَهَا فَتُعْرَضُ عَلَيْهِ صِغَارُ اٹھا رکھو۔چنانچہ اس کے معمولی گناہ اس کے سامنے ذُنُوبِهِ فَيُقَالُ عَمِلْتَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا كَذَا پیش کئے جائیں گے اور کہا جائیگا تو نے فلاں فلاں وَكَذَا وَعَمِلْتَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا كَذَا وَكَذَا دن یہ یہ کیا اور فلاں فلاں دن یہ یہ کیا۔وہ کہے گا ہاں فَيَقُولُ نَعَمْ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُنْكِرَ وَهُوَ مُشفِقٌ وہ انکار کی طاقت نہیں پائے گا اور وہ اس بات سے من كبار ذُنُوبه أَنْ تُعْرَضَ عَلَيْهِ فَيُقَالُ لَهُ خوفزدہ ہوگا کہ اسکے کبائر گناہ اسکے سامنے پیش کئے فَإِنَّ لَكَ مَكَانَ كُلِّ سَيِّئَةٍ حَسَنَةٌ فَيَقُولُ رَبِّ جائیں پھر اسے کہا جائے گا تیرے لئے ہر بدی کے قَدْ عَمِلْتُ أَشْيَاءَ لَا أَرَاهَا هَا هُنَا فَلَقَدْ مقابلہ پر ایک نیکی ہے۔تو وہ کہے گا اے میرے رب رَأَيْتُ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ میں نے تو وہ کام بھی کئے تھے جو اب مجھے