صحیح مسلم (جلد اوّل)

Page 211 of 300

صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 211

صحیح مسلم جلد اول 211 كتاب الايمان الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ایک سایہ دار درخت متمثل کرے گا تو وہ کہے گا اے وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً رَجُلٌ میرے رب! مجھے اس درخت کی طرف لے جا کہ صَرَفَ اللهُ وَجْهَهُ عَن النَّار قبلَ الْجَنَّةِ میں اس کے سائے میں ہو جاؤں۔پھر حضرت ابن وَمَثْلَ لَهُ شَجَرَةً ذَاتَ ظَلُّ فَقَالَ أَيْ رَبِّ مسعود کی روایت کی طرح روایت بیان کی مگر یہ ذکر قَدِّمْنِي إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ أَكُونُ فِي ظلّها نہیں کیا کہ وہ ( اللہ تعالیٰ ) کہے گا اے ابن آدم ! مجھے وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُود تجھ سے کون بچائے گا راوی نے یہ روایت حضرت وَلَمْ يَذْكُرْ فَيَقُولُ يَا ابْنَ آدَمَ مَا يَصْرِينِي ابن مسعود کی روایت کی طرح بیان کی مگر یہ ذکر نہیں کیا مِنْكَ إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ وَزَادَ فِيهِ وَيُذَكِّرُهُ يَا ابْنَ آدَمَ مَا يَضْرِيْنِي مِنْكَ (آخر روایت اللهُ سَلْ كَذَا وَكَذَا فَإِذَا انْقَطَعَتْ به تک ) اور اس میں یہ بات زائد ہے کہ اللہ اسے یاد الْأَمَانِيُّ قَالَ اللَّهُ هُوَ لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالَهُ قَالَ کرائے گا کہ فلاں فلاں چیز مانگ۔پس جب اس کی ثُمَّ يَدْخُلُ بَيْتَهُ فَتَدْخُلُ عَلَيْهِ زَوْجَتَاهُ مِنَ آرزویں تمام ہو جائیں گی تو اللہ فرمائے گا یہ سب کچھ الْحُور العين فَتَقُولَانِ الْحَمْدُ لله الذي تیرا ہے اور اس جیسے دس اور۔راوی کہتے ہیں پھر وہ أَحْيَاكَ لَنَا وَأَحْيَانَا لَكَ قَالَ فَيَقُولُ مَا أَعْطَيَ اپنے گھر میں داخل ہوگا تو حورعین میں سے اس کی دو أَحَدٌ مِثْلَ مَا أُعْطِيتُ بیویاں بھی اس کے پاس آئیں گی اور کہیں گی الحمد للہ۔اللہ کا شکر ہے جس نے تجھے ہمارے لئے زندہ کیا اور ہمیں تیرے لئے زندگی بخشی۔وہ کہے گا کسی کو وہ نہیں دیا گیا جو مجھے دیا گیا ہے۔ہے 268 {189} حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرِو 268 بھی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے الْأَشْعَتَيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَن مغیرہ بن شعبہ کو منبر پر بیان کرتے ہوئے سنا اور وہ مُطَرْفِ وَابْنِ أَبْجَرَ عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ اس روایت کو رسول اللہ ﷺ کی طرف مرفوع بیان سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ روَايَةً إِنْ شَاءَ کر رہے تھے۔۔۔۔۔حضرت موسیٰ نے اپنے رب سے الله ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ پوچھا کہ سب سے کم درجہ والا جنتی کون ہے؟ فرمایا وہ حَدَّثَنَا مُطَرْفُ بْنُ طَرِيفِ وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ ایک حص ہے جو سب اہلِ جنت کے جنت میں داخل