صحیح مسلم (جلد اوّل)

Page 210 of 300

صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 210

صحیح مسلم جلد اول 210 كتاب الايمان جب وہ اسے اس کے قریب کر دے گا اور اہل جنت کی آوازیں سنے گا تو عرض کرے گا اے میرے رب! مجھے اس میں داخل فرمادے۔تب وہ (اللہ تعالی) فرمائے گا۔اے ابن آدم ! مجھے تجھ سے کون بچائے؟ کیا تو اس بات پر راضی ہوگا کہ میں تجھے دنیا اور اس کے ساتھ اس جیسی اور (دنیا) دے دوں۔اس پر وہ کہے گا اے میرے رب! کیا تو مجھ سے مذاق کرتا ہے حالانکہ تو رب العلمین ہے۔اس پر حضرت ابن مسعودؓ ہنس پڑے اور کہا کیا تم مجھ سے نہیں پوچھو گے کہ میں کس بات پر ہنس رہا ہوں؟ اس پر انہوں نے کہا کہ آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اسی طرح رسول اللہ ہے ہنسے تھے۔اس پر صحابہ نے عرض کیا تھا یا رسول اللہ ! آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں۔آپ نے فرمایا رب العلمین کے بننے پر۔جب اس شخص نے عرض کیا کیا مجھ سے مذاق کرتا ہے؟ اور تو رب العالمین ہے۔تب وہ ( اللہ تعالی ) فرمائے گا یقینا میں تجھ سے مذاق نہیں کر رہا لیکن میں جو چاہوں اس پر قادر ہوں۔[84]83:باب أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً فِيهَا جنت والوں میں سب سے کم درجہ والا کون ہے 267 {188} حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبي شَيْبَةَ 267 حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں سب سے کم مُحَمَّدٍ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنِ درجہ والا شخص وہ ہوگا جس کا چہرہ اللہ تعالی آگ سے النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ عَنْ أَبِي سَعِيدِ ہٹا کر جنت کی طرف پھیر دے گا اور اس کے لئے