صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 205
حیح مسلم جلد اول يَشُكا الْقَشَاعَةُ وهيب الله منه 205 کتاب الایمان حَدَّثَنَا وَهَيب حو السَّاعرِ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنِ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ گے۔ان دونوں نے اس میں شک نہیں کیا۔كِلَاهُمَا عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بِهَذَا الْإِسْنَادِ خالد کی روایت میں ہے كَمَا تَنْبُتُ الْعُشَاءَةُ فِي وَقَالَا فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرٍ يُقَالَ لَهُ الْحَيَاةُ وَلَمْ جَانِبِ السَيْلِ یعنی جس طرح سیلاب کے لائے وَفِي حَدِيث خَالِد كَمَا تَنْبُتُ ہوئے بیج سیلاب کے کنارے پر اُگتے ہیں۔في جَانِبِ السَّيْلِ وَفِي حَدِيثِ اور وہیب والی روایت میں ہے كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِئَةِ أَوْ فِي حَمِئَةٍ أَوْ حَمِيْلَةِ السَّيْلِ یعنی جیسے دانہ حَميلَة السَّيْل کیچڑ میں یا سیلاب کی لائی ہوئی مٹی میں اگتا ہے۔263 {185} و حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ :263 حضرت ابوسعید سے روایت ہے وہ کہتے الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا بِشَرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو تو آگ والے عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي ہیں اور اس کے اہل ہیں وہ اس میں نہ تو مریں گے سَعِيدِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اور نہ جیں گے مگر کچھ لوگ ہیں جو اپنے گناہوں یا وَسَلَّمَ أَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُهَا فَإِنَّهُمْ فرمایا اپنی خطاؤں کی وجہ سے آگ کا شکار ہوں گے۔لَا يَمُوتُونَ فِيهَا وَلَا يَحْيَوْنَ وَلَكِنْ نَاسٌ اللہ تعالیٰ ان کو ایک طرح کی موت دے گا یہانتک کہ أَصَابَتْهُمُ النَّارُ بِذُنُوبِهِمْ أَوْ قَالَ بِخَطَايَاهُمْ جب وہ جل کر ) کوئلہ ہوں گے تو شفاعت کی فَأَمَاتَهُمْ إِمَاتَةً حَتَّى إِذَا كَانُوا فَحْمًا أُذِنَ اجازت دی جائے گی۔یہ لوگ گروہ در گروہ لائے بِالشَّفَاعَةِ بِهِمْ ضَبَائِرَ ضَبَائِرَ فَبُثُوا جائیں گے اور انہیں جنت کی نہروں پر پھیلا دیا جائے عَلَى أَنْهَارِ الْجَنَّةِ ثُمَّ قِيلَ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ گا۔پھر کہا جائے گا: اے جنت والو! ان پر (پانی) أَفِيضُوا عَلَيْهِمْ فَيَنْبُتُونَ نَبَات الْحِبَّةِ تَكُونُ ڈالو تو وہ اس طرح نشونما پانے لگیں گے جیسے دانہ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ سیلاب کی لائی ہوئی مٹی میں پھولتا پھلتا ہے۔قوم میں كَأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ سے ایک آدمی نے کہا: رسول اللہ ﷺ گویا صحراء میں ح و حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ میں جسے الحیات یعنی زندگی کہا جاتا ہو گا ڈالے جائیں كَانَ بِالْبَادِيَة و حَدَّثَنَاهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى رہے ہیں۔دونوں راویوں کے نزدیک ”نہر الحیاۃ یعنی زندگی کی نہر تھی۔