صحیح مسلم (جلد اوّل)

Page 204 of 300

صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 204

صحیح مسلم جلد اول 204 کتاب الایمان وَمَعَه “ حضرت ابو سعید کہتے ہیں مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ پل صراط) بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہوگا اور لیٹ کی روایت میں یہ نہیں ہے کہ فَيَقُولُونَ رَبَّنَا أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ وہ کہیں گے اے ہمارے رب! تو نے ہمیں وہ کچھ عطاء کیا ہے جو تو نے تمام جہانوں میں سے کسی کو عطا نہیں کیا۔[82]81: بَاب إِثْبَاتِ الشَّفَاعَةِ وَإِحْرَاجِ الْمُوَحَدِينَ مِنَ النَّارِ شفاعت کا برحق ہونا اور توحید کا اقرار کرنے والوں کو آگ سے نکال لیا جانا 262 {184} و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ :262 حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مَالِكُ رسول الله علیہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اہل جنت کو جنت بْنُ أَنَسٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ قَالَ میں داخل کرے گا۔وہ جسے چاہے گا اپنی رحمت سے حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِي سَعِيدِ الْخُدْرِيِّ أَنَّ داخل کرے گا اور اور آگ والوں کو آگ میں داخل رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ کرے گا پھر فرمائے گا : دیکھو ! تم جس کے دل میں يُدْخِلُ اللهُ أَهْلَ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ يُدْخِلُ مَنْ رائی کے دانہ برابر بھی ایمان پاتے ہوا سے نکال لو۔يَشَاءُ بِرَحْمَتِهِ وَيُدْخِلُ أَهْلَ النَّارِ النَّارَ ثُمَّ چنانچہ ان کو اس سے نکال لیا جائے گا۔وہ کوئلہ کی طرح يَقُولُ الظُرُوا مَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ جل کر سیاہ ہو چکے ہوں گے۔ان کو نہر حیات میں یا مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانِ فَأَخْرِجُوهُ نبر حیا میں ڈالا جائے گا اور وہ اس میں نشو ونما پائیں فَيُخْرَجُونَ مِنْهَا حُمَمًا قَدِ امْتَحَشُوا گے جس طرح سیلاب کے کنارے دانہ اگتا ہے۔کیا فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرِ الْحَيَاةِ أَوِ الْحَيَا فَيَنْبُتُونَ فِيهِ تم نے اس کو دیکھا نہیں وہ کیسے زرد اور لپٹا ہوا كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ إِلَى جانب السَّيْلِ أَلَمْ اُگتا ہے ؟ عمرو بن سکی اسی اسناد سے ان دونوں تَرَوْهَا كَيْفَ تَخْرُجُ صَفْرَاءَ مُلْتَوِيَةٌ و راویوں سے روایت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرٍ يُقَالُ لَهُ الْحَيَاةُ یعنی وہ اس نہر